کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا مسلمة بن مخلد رضی اللہ عنہ کی خوبصورت قراءت کا بیان
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُمَيدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مَيسَرة قال: سمعت مجاهدًا يقول: صلَّيتُ خلفَ مَسلَمة بن مُخلَّد بمصر، فقرأ البقرةَ، فما أَسقطَ منها واوًا ولا ألِفًا (1).
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں نے مصر میں مسلمہ بن مخلد کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت کی اور اس میں سے ایک واؤ یا الف بھی (غلطی سے) نہیں گرایا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6208
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى المكي، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 6208] [ترقيم الشركة 6146]
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خَليفة بن خيّاط قال: وفيها مات - يعني سنة اثنتين وستين - أبو سعيد مَسلَمة بن مُخلَّد الأنصاري بمصر، وكان أميرَها، هو أولُ من جُمِعَت له مصرُ والمغربُ من الأمراء، وله روايةٌ، ذكر أنَّ النَّبِيّ ﷺ قُبِضَ وله عشر (2) سنين (3). ذكرُ مناقب أبي إسحاق سعد بن أبي وقّاص ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ اسی سال یعنی 62 ہجری میں ابو سعید مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات مصر میں ہوئی، وہ وہاں کے امیر تھے اور وہ پہلے امیر تھے جن کے لیے مصر اور مغرب کی امارت جمع کی گئی، ان سے روایات مروہ ہیں اور تذکرہ ملتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا تو ان کی عمر دس سال تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6209
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6209] [ترقيم الشركة 6147]