المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: سیدنا مسلمة بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6207
حَدَّثَنَا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: ومَسلمةُ بن مُخلَّد بن الصامت بن نِيَار (1) بن لَوْذان بن خَزرَج، يكنى أبا مَعْن، قيل: مات بمصر، وقيل: بالمدينة سنةَ ستِّين، شَهِدَ أُحدًا والمشاهدَ كلَّها، وفيه يقول حسَّان بن ثابت: ها إنَّ ذا خالي أُباهِي بهِ … فلْيُرِني كلُّ امرِئٍ خالَهُ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ مسلمہ بن مخلد بن صامت بن نیار خزرجی کی کنیت ابو معن تھی، ایک قول کے مطابق ان کی وفات مصر میں ہوئی اور دوسرے قول کے مطابق مدینہ منورہ میں 60 ہجری میں ہوئی، وہ غزوہ احد اور دیگر تمام غزوات میں شریک ہوئے، ان کے بارے میں سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ (فخریہ طور پر) فرماتے ہیں: ”آگاہ رہو کہ یہ میرے ماموں ہیں جن پر میں فخر کرتا ہوں، پس (اگر کسی میں ہمت ہے تو) ہر شخص مجھے اپنے ماموں دکھائے (جو ان جیسے ہوں)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: السيار، والتصويب من كتب الأنساب والرجال.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'السیار' ہو گیا ہے، درست نام کتبِ انساب و رجال کی روشنی میں تصحیح کر کے لکھا گیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'السیار' ہو گیا ہے، درست نام کتبِ انساب و رجال کی روشنی میں تصحیح کر کے لکھا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6207 سے ماخوذ ہے۔