کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حویطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
قال ابن عمر: وأخبرني إبراهيم بن جعفر بن محمود، عن أبيه. وحدَّثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن موسى بن عُقْبة، عن المنذِر بن جَهْم قال: قال حُوَيطبُ بن عبد العزّى: لما دَخَلَ رسول الله ﷺ مكة عامَ الفَتْح خفتُ خوفًا شديدًا، فخرجتُ من بيتي، وفرَّقتُ عِيالى في مواضعَ يأمَنون فيها، ثم انتهيتُ إلى حائط عَوْف، فكنتُ فيه، فإذا أنا بأبي ذرٍّ الغِفَاري وكانت بيني وبينه خُلَّةٌ، والخُلَّةُ أبدًا نافعةٌ، فلما رأيته هربتُ منه، فقال: أبا محمدٍ! فقلت: لبَّيْكَ، قال: ما لك؟ قلت: الخوفُ، قال: لا خوفَ عليك، تعالَ (1) أنت آمنٌ بأمان الله ﷿، فرجعتُ إليه، فسلَّمتُ عليه، فقال: اذهَبْ إلى منزلك، قلت: هل لي سبيلٌ إلى منزلي، والله ما أُراني أَصِلُ إلى بيتي حيًّا حتَّى أُلفَى فأُقتَل، أو يُدخَلَ عليَّ منزلي فأُقتل، وإنَّ عِيالي لفي مواضِعَ شتَّى، قال: فاجمَعْ عيالَك في موضع، وأنا أبلُغُ معك إلى منزلك، فبَلَغَ معي، وجعل يُنادي: إِنَّ حُويطبًا آمنٌ فلا يُهَجْ، ثم انصرف أبو ذرٍّ إلى رسول الله ﷺ فأخبره، فقال: "أوليسَ قد آمَنَ الناسُ كلُّهم إلَّا من أَمرتُ بقتلِهم؟ ". قال: فاطمأننتُ ورَدَدتُ عِيالي إلى منازلهم، وعاد إليَّ أبو ذر، فقال لي: يا أبا محمد، حتَّى متى (2) وإلى متى؟! قد سُبقتَ في المواطن كلها، وفاتَكَ خيرٌ كثيرٌ وبقي خيرٌ كثير، فأتِ رسولَ الله ﷺ فأسلِمْ تَسلَمْ، ورسولُ الله ﷺ أبرُّ الناسِ وأوصلُ الناس وأحلمُ الناس، شَرَفُه شرفُك، وعِزُّه عزُّك، قال: قلت: فأنا أخرجُ معك فآتِيهِ، فخرجتُ معه حتَّى أتيتُ رسولَ الله ﷺ بالبطحاءِ وعنده أبو بكر وعمر، فوقفتُ على رأسه وسألتُ أبا ذرٍّ: كيف يقال إذا سُلِّمَ عليه؟ قال: قل: السلام عليك أيُّها النبيُّ ورحمةُ الله وبركاتُه، فقلتُها، فقال: "وعليكَ السلام حُويطِبُ". فقلت: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأنك رسولُ الله، فقال رسول الله: "الحمدُ لله الذي هَدَاك"، قال: وسُرَّ رسولُ الله ﷺ بإسلامي، واستقرَضَني مالًا فأقرضتُه أربعينَ ألفَ درهمٍ، وشَهِدتُ معه حُنينًا والطائفَ، وأعطاني من غنائم حُنينٍ مئةَ بعير (3).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر، ابراہیم بن جعفر بن محمود اپنے والد سے اور منذر بن جہم سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو میں شدید خوفزدہ ہو گیا، میں اپنے گھر سے نکلا اور اپنے اہل و عیال کو مختلف جگہوں پر بکھیر دیا تاکہ وہ محفوظ رہیں، پھر میں عوف کے باغ میں جا چھپا، وہاں میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میرے اور ان کے درمیان گہری دوستی تھی اور دوستی ہمیشہ نفع بخش ہوتی ہے، جب میں نے انہیں دیکھا تو میں (ڈر کر) ان سے بھاگنے لگا، انہوں نے پکارا: ”اے ابو محمد!“ میں نے جواب دیا: ”لبیک“ انہوں نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”مجھے خوف ہے،“ انہوں نے فرمایا: ”تم پر کوئی خوف نہیں، آؤ تم اللہ عزوجل کی امان میں ہو،“ چنانچہ میں ان کے پاس واپس آگیا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا: ”اپنے گھر جاؤ،“ میں نے کہا: ”میرے لیے گھر جانے کی راہ کہاں ہے؟ اللہ کی قسم! مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنے گھر تک زندہ پہنچ سکوں گا، بلکہ اس سے پہلے ہی مجھے پکڑ کر قتل کر دیا جائے گا یا میرے گھر میں گھس کر مجھے مار دیا جائے گا، جبکہ میرے اہل و عیال بھی متفرق مقامات پر ہیں،“ انہوں نے فرمایا: ”تم اپنے اہل و عیال کو ایک جگہ جمع کرو اور میں تمہارے ساتھ تمہارے گھر تک چلتا ہوں،“ پس وہ میرے ساتھ چلے اور راستے میں یہ پکارتے رہے: ”بلاشبہ حویطب کو امان دے دی گئی ہے لہٰذا اسے کوئی نہ چھیڑے،“ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو خبر دی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا سب لوگوں کو امان نہیں دے دی گئی ہے سوائے ان کے جن کے قتل کا میں نے حکم دیا تھا؟“ حویطب کہتے ہیں: اس پر مجھے اطمینان ہوا اور میں نے اپنے اہل و عیال کو گھروں میں واپس بلا لیا، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ دوبارہ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا: ”اے ابو محمد! آخر کب تک اور کہاں تک؟ آپ تمام معرکوں میں پیچھے رہ گئے، بہت سی خیر آپ سے فوت ہو گئی لیکن اب بھی بہت سی خیر باقی ہے، پس رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آئیں تاکہ سلامت رہیں، اور رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے بڑھ کر نیکوکار، صلہ رحمی کرنے والے اور بردبار ہیں، ان کی شرافت آپ ہی کی شرافت ہے اور ان کی عزت آپ ہی کی عزت ہے،“ میں نے کہا: ”میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں،“ چنانچہ میں ان کے ہمراہ نکلا یہاں تک کہ بطحاء کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ کے پاس سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے، میں آپ ﷺ کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب آپ ﷺ کو سلام کیا جائے تو کیا کہنا چاہیے؟ انہوں نے کہا: ”آپ یوں کہیں: «السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ»،“ میں نے وہی الفاظ کہے، تو آپ ﷺ نے جواب دیا: ”اور تم پر بھی سلامتی ہو، اے حویطب!“ پھر میں نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں،“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت دی،“ حویطب کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے اسلام لانے پر بہت خوش ہوئے، آپ ﷺ نے مجھ سے مال قرض طلب کیا تو میں نے آپ ﷺ کو چالیس ہزار درہم قرض دیے، میں آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین اور طائف میں شریک ہوا اور آپ ﷺ نے مجھے حنین کے غنائم میں سے سو اونٹ عطا فرمائے۔
قال ابن عمر: وحدثني عبدُ الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه قال: باع حويطبُ بن عبد العزَّى دارَه بمكة من معاويةَ بأربعين ألفَ دينار، فقيل له: يا أبا محمد، أربعين ألف دينار! قال: وما أربعون ألفَ دينار لرجل عنده خمسةٌ من العِيال؟! قال عبد الرحمن بن أبي الزِّناد: وهو يومئذٍ يُوفِّر عليه القُوتَ كلَّ شهر (1). قال (2): ثم قَدِمَ حويطبٌ بعد ذلك المدينةَ فنزلها، وله بها دارٌ بالبَلَاط عند أصحاب المصاحف، قال: ومات حويطبُ بن عبد العزّى بالمدينة سنة أربع وخمسين، وكان له يومَ ماتَ مئةٌ وعشرون سنةً. ذكرُ مناقب يزيد بن شَجَرَة الرُّهَاوي (3) ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
عبد الرحمن بن ابی الزناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اپنا گھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار میں فروخت کیا، ان سے کہا گیا: اے ابو محمد! چالیس ہزار دینار (بہت بڑی رقم ہے)! انہوں نے جواب دیا: ”اس شخص کے لیے چالیس ہزار دینار کی کیا حقیقت ہے جس کے پانچ اہل و عیال ہوں؟“ عبد الرحمن بن ابی الزناد کہتے ہیں کہ وہ اس زمانے میں ان کے لیے ہر ماہ کی خوراک کا اہتمام کرنے کو فوقیت دیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر حویطب مدینہ منورہ منتقل ہو گئے اور وہیں سکونت اختیار کی، وہاں ان کا گھر مقامِ بلاط پر مصاحف لکھنے والوں کے پاس تھا، حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کی وفات 54 ہجری میں مدینہ میں ہوئی اور بوقتِ وفات ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔
سیدنا یزید بن شجرہ رہاوی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا ذکر۔
سیدنا یزید بن شجرہ رہاوی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا ذکر۔