کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عقبہ بن عامر ابو عمرو جہنی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان — اور خلافت کے بارے میں امیر معاویہ اور ابن عباس کے درمیان گفتگو
أخبرني محمد بن أحمد بن تَمِيم الحَنظلي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن العبّاس الكابُلِي (2)، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثني زيد بن الحُبَاب، عن عبد الله ابن لَهِيعة قال: حدثني أبو الأسْوَد، عن عُرْوة: أنَّ معاوية استَعمل على مصر بعد وفاة أخيه عَنبَسة بن أبي سفيان عُقبةَ بنَ عامرٍ الجُهَني، وذلك سنة أربع وأربعين، فأقام الحجَّ فيها معاويةُ. قال أبو بكر (1): فحدَّثني أبو بكر بنُ عيّاش، حَدَّثَنَا معروف بن يزيد (2) المكي، قال: بَيْنا عبدُ الله بن عبّاس جالسٌ في المسجد الحرام ونحن بين يديه، إذ أقبل معاويةُ فجلس إليه، فأعرَضَ عنه ابن عبّاس، فقال له معاوية: ما لي أراك مُعرِضًا؟ ألستَ تعلمُ أنِّي أحقُّ بهذا الأمر من ابن عمِّك؟ قال: لِمَ؟ قال: لأنَّهُ كان مسلمًا، وكنتَ كافرًا؟ قال: لا، ولكنِّي ابن عمِّ عثمان، قال: فابنُ عمِّه خيرٌ من ابن عمِّك، قال: إنَّ عثمان قُتِل مظلومًا، قال: وعندهما ابن عمر، فقال ابن عَبَّاس: فإنَّ هذا واللهِ أحقُّ بالأمر منك، فقال معاوية: إنَّ عمر قَتَله كافرٌ وعثمانَ قَتَلَه مسلمٌ، فقال ابن عَبَّاس: ذاك واللهِ أَدْحَضُ لحُجَّتِك (3).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عنبسہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد سن 44 ہجری میں سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مصر کا گورنر مقرر کیا، اور اسی سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کی امارت فرمائی۔ معروف بن یزید مکی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں بیٹھے تھے اور ہم ان کے سامنے تھے کہ اتنے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اعراض کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا بات ہے میں آپ کو اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ میں آپ کے چچا زاد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی نسبت اس معاملے (خلافت) کا زیادہ حقدار ہوں؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: ”اس لیے کہ وہ (عثمان) مسلمان تھے اور آپ (کفر کی حالت میں تھے)؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”نہیں بلکہ میں عثمان کا چچا زاد ہوں (یعنی قرابت میں قریب ہوں)۔“ انہوں نے کہا: ”ان کا چچا زاد تمہارے چچا زاد سے بہتر ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”عثمان مظلوم قتل کیے گئے۔“ وہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما ) تم سے زیادہ اس امر کے حقدار ہیں۔“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”عمر کو ایک کافر نے قتل کیا تھا جبکہ عثمان کو ایک مسلمان نے قتل کیا“، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ بات تو تمہاری دلیل کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔“
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، أخبرني أبو يونس، حَدَّثَنَا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي قال: عُقبة بن عامر الجُهَني يُكْنَى أبا عمرو، توفي سنة اثنتين وخمسين (4).
حافظ طلحہ بابر
ابویونس سے روایت ہے کہ ابراہیم بن منذر حزامی نے کہا: سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمرو تھی اور ان کی وفات سن 52 ہجری میں ہوئی۔