❮
❯
حدیث نمبر: 6082
أخبرني محمد بن أحمد بن تَمِيم الحَنظلي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن العبّاس الكابُلِي (2)، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثني زيد بن الحُبَاب، عن عبد الله ابن لَهِيعة قال: حدثني أبو الأسْوَد، عن عُرْوة: أنَّ معاوية استَعمل على مصر بعد وفاة أخيه عَنبَسة بن أبي سفيان عُقبةَ بنَ عامرٍ الجُهَني، وذلك سنة أربع وأربعين، فأقام الحجَّ فيها معاويةُ. قال أبو بكر (1): فحدَّثني أبو بكر بنُ عيّاش، حَدَّثَنَا معروف بن يزيد (2) المكي، قال: بَيْنا عبدُ الله بن عبّاس جالسٌ في المسجد الحرام ونحن بين يديه، إذ أقبل معاويةُ فجلس إليه، فأعرَضَ عنه ابن عبّاس، فقال له معاوية: ما لي أراك مُعرِضًا؟ ألستَ تعلمُ أنِّي أحقُّ بهذا الأمر من ابن عمِّك؟ قال: لِمَ؟ قال: لأنَّهُ كان مسلمًا، وكنتَ كافرًا؟ قال: لا، ولكنِّي ابن عمِّ عثمان، قال: فابنُ عمِّه خيرٌ من ابن عمِّك، قال: إنَّ عثمان قُتِل مظلومًا، قال: وعندهما ابن عمر، فقال ابن عَبَّاس: فإنَّ هذا واللهِ أحقُّ بالأمر منك، فقال معاوية: إنَّ عمر قَتَله كافرٌ وعثمانَ قَتَلَه مسلمٌ، فقال ابن عَبَّاس: ذاك واللهِ أَدْحَضُ لحُجَّتِك (3).
حافظ طلحہ بابر

عروہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عنبسہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد سن 44 ہجری میں سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مصر کا گورنر مقرر کیا، اور اسی سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کی امارت فرمائی۔ معروف بن یزید مکی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں بیٹھے تھے اور ہم ان کے سامنے تھے کہ اتنے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اعراض کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا بات ہے میں آپ کو اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ میں آپ کے چچا زاد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی نسبت اس معاملے (خلافت) کا زیادہ حقدار ہوں؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”کیوں؟ کیا اس لیے کہ وہ (علی) مسلمان تھے اور آپ کافر تھے؟“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، بلکہ اس لیے کہ میں عثمان کا چچا زاد ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”تو ان کا چچا زاد تمہارے چچا زاد سے بہتر ہے۔“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”عثمان مظلوم قتل کیے گئے۔“ وہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما ) تم سے زیادہ اس امر کے حقدار ہیں۔“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”عمر کو ایک کافر نے قتل کیا تھا جبکہ عثمان کو ایک مسلمان نے قتل کیا“، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ بات تو تمہاری دلیل کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔“

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6082
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، من أجل أبي بكر بن عياش وشيخه معروف إن كان معروفٌ سمعه من ابن عباس، فإنَّ في إدراكه له وقفة.» [ترقيم الرساله 6082] [ترقيم الشركة 6024]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّفت في (ص) و (م) و (ب) إلى: الكاملي، بالميم، والصواب كما في (ز) بالباء، وكما في مصادر ترجمته.
اہم نکتہ: نسخہ (ص، م، ب) میں یہاں "الکاملی" (میم کے ساتھ) تحریف ہو گئی ہے، جبکہ درست لفظ "الکابلی" (باء کے ساتھ) ہے جیسا کہ نسخہ (ز) اور راوی کے تراجم میں موجود ہے۔
(1) يعني: ابن أبي شيبة.
اہم نکتہ: ابوبکر سے یہاں مراد مشہور محدث "ابن ابی شیبہ" ہیں۔
(2) في النسخ الخطية: معروف بن يزيد وليس في الرواة من اسمه كذلك، وشيخ أبي بكر بن عياش إنما هو معروف بن خرَّبوذ.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "معروف بن یزید" لکھا ہے جبکہ راویوں میں اس نام کا کوئی شخص نہیں؛ ابوبکر بن عیاش کے اصل شیخ "معروف بن خربوذ" ہیں۔
(3) إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش وشيخه معروف إن كان معروفٌ سمعه من ابن عباس، فإنَّ في إدراكه له وقفة.
درجۂ حدیث: ابوبکر بن عیاش اور ان کے شیخ معروف کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے، بشرطیکہ معروف کا حضرت ابن عباس سے سماع ثابت ہو جائے، کیونکہ ان کے ادراکِ صحابی میں کلام (وقفہ) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6082 سے ماخوذ ہے۔