کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کی وصیت کا بیان
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا ابن عُلَيّة، حَدَّثَنَا أيوب، عن محمد بن سِيرِين قال: شهد أبو أيوب مع رسول الله ﷺ بدرًا، ثم لم يَتخلَّف عن غَزَاةٍ للمسلمين إِلَّا هو فيها، إلَّا عامًا واحدًا؛ فإنه استُعمِلَ على الجيش رجلٌ شابٌّ، فقَعَدَ ذلك العامَ، فجعل بعد ذلك يتلهَّف ويقول: ما عليَّ من استُعمِل عليَّ، وما عليَّ من استُعمِل عليَّ، فمرضَ، وعلى الجيش يزيدُ بنُ معاوية، فدخل عليه يعودُه فقال: ما حاجتُك؟ فقال: حاجتي إذا أنا مُتُّ فاركَبْ، ثم اسْعَ في أرضِ العدو ما وجدتَ مَسَاغًا، فإذا لم تَجِدْ مَسَاغًا فادفنِّي ثم ارجِعْ. قال: وكان أبو أيوب يقول: قال الله ﷿: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] فلا أَجدُني إلَّا خفيفًا أو ثقيلًا (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5930 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اس کے بعد مسلمانوں کا کوئی ایسا غزوہ نہیں رہا جس میں وہ شامل نہ ہوئے ہوں سوائے ایک سال کے، جب لشکر پر ایک نوجوان کو امیر مقرر کیا گیا تو وہ اس سال پیچھے رہ گئے، پھر بعد میں اس پر افسوس کرتے اور فرماتے: ”مجھ پر جو بھی امیر مقرر کیا جائے مجھے اس سے کیا غرض، مجھ پر جو بھی امیر مقرر کیا جائے مجھے اس سے کیا غرض؟“ پھر وہ بیمار ہو گئے جبکہ لشکر کی قیادت یزید بن معاویہ کر رہے تھے، وہ ان کی عیادت کے لیے آئے اور پوچھا: ”آپ کی کیا حاجت ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میری حاجت یہ ہے کہ جب میں مر جاؤں تو تم سوار ہونا، پھر دشمن کی زمین میں جہاں تک تمہیں گنجائش ملے آگے بڑھتے جانا اور جب راستہ ختم ہو جائے تو مجھے وہیں دفن کر کے واپس آ جانا۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ (اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کرتے ہوئے) فرمایا کرتے تھے: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ”نکلو ہلکے ہو یا بوجھل“ [سورة التوبة: 41]، پس میں اپنے آپ کو یا تو ہلکا پاتا ہوں یا بوجھل۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6043
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، رجاله ثقات. مسدد: هو ابن مسرهد، وابن علية: هو إسماعيل بن إبراهيم، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني.» [ترقيم الرساله 6043] [ترقيم الشركة 5985] [ترقيم العلميه 5930]
أخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعراني، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعبة قال: قلت للحَكَم: ما شَهِدَ أبو أيوب من حرب عليّ بن أبي طالب؟ قال: شَهِدَ معه حَرُوراءَ (1).
حافظ طلحہ بابر
حکم سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حروراء (خوارج کے خلاف جنگ) میں شریک ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6044
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6044] [ترقيم الشركة 5986]