کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جان کنی کے وقت موت کی کیفیت کا بیان
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن هشام بن الكَلْبي، عن عَوَانة بن الحَكَم، قال: كان عمرو بن العاص يقول: عجبًا لمن نَزَلَ به الموتُ وعقلُه معه كيف لا يَصِفُه؟ فلما نَزَلَ به الموتُ قال له ابنه عبد الله بن عَمرو: يا أبَةِ، إنك كنتَ تقول: عَجَبًا لمن نَزَلَ به الموتُ وعقله معه كيف لا يَصِفُه؟! فصِفْ لنا الموتَ وعقْلُك معك، فقال: يا بُنيّ، الموتُ أجَلُّ من أن يُوصَف، ولكني سأصِفُ لك منه شيئًا: أجِدُني كأَنَّ على عنقي جِبَالَ رَضْوَى، وأجِدُني كأَنَّ في جَوفي شَوكَ السُّلّاء، وأجِدُني كأنَّ نَفْسي تَخرُج مِن ثَقْبِ إِبْرَةٍ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5915 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عوانہ بن حکم سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جس کی موت کا وقت آ پہنچا ہو اور اس کی عقل بھی سلامت ہو، وہ موت کی کیفیت کیوں بیان نہیں کرتا؟“ پھر جب خود ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے ابا جان! آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جس کی موت آ جائے اور وہ صاحبِ عقل ہو کر بھی اس کی کیفیت بیان نہ کرے، پس اب جبکہ آپ کی عقل سلامت ہے تو ہمیں موت کی کیفیت بتائیے“، انہوں نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! موت اس سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے کہ اسے بیان کیا جا سکے، لیکن میں تمہیں اس کا کچھ احساس بتاتا ہوں: میں خود کو ایسا محسوس کر رہا ہوں جیسے میری گردن پر رضویٰ کے پہاڑ رکھ دیے گئے ہوں، اور مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے پیٹ میں کانٹے بھر دیے گئے ہوں، اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری جان سوئی کے ناکے سے نکالی جا رہی ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6028
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، محمد بن عمر الواقدي وشيخه هشام متروكان.» [ترقيم الرساله 6028] [ترقيم الشركة 5970] [ترقيم العلميه 5915]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي مريم، حَدَّثَنَا الليث وابن لَهِيعة، قالا: أخبرنا ابن أبي حَبِيب، عن سُوَيد بن قيس التُّجِيبي، عن زُهير بن قيس البَلَوِيَّ، عن علقمة بن رِمْثةَ البَلَويّ، أنه قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ عمرَو بن العاص إلى البَحرَين، ثم خرج رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة وخَرجْنا معه، فنَعَسَ رسولُ الله ﷺ ثم استيقظ، فقال: "رَحِمَ الله عمرًا" قال: فتذاكَرْنا كلَّ إنسانٍ اسمُه عمرو، فنَعَس ثانيًا، فاستيقظ فقال: "رَحِمَ الله عمرًا"، ثم نَعَس الثالثةَ، ثم استيقظ فقال: "رَحِمَ الله عمرًا" فقلنا: من عَمرٌو يا رسول الله؟ قال: "عَمرُو بن العاص" قالوا: ما بالُه؟ قال: "ذَكَرتُه، إني كنتُ إذا نَدَبتُ الناسَ إلى الصَّدقة، جاء بالصَّدقة فأجْزَلَ، فأقولُ له: مِن أين لكَ هذا؟ فيقول: مِن عندِ الله، وصَدَقَ عَمْرٌو؛ إنَّ لعَمرٍو خيرًا كثيرًا". قال زُهير: فلما كانت الفِتنةُ قلتُ: أَتَّبِعُ هذا الذي قال رسولُ الله ﷺ [فيه] ما قال، فلم أُفارِقُه (1) (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5916 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
علقمہ بن رمثہ بلوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بحرین روانہ فرمایا، پھر رسول اللہ ﷺ ایک لشکر کے ساتھ نکلے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے، رسول اللہ ﷺ پر کچھ دیر کے لیے اونگھ طاری ہوئی، پھر جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم آپس میں ہر اس شخص کا نام لینے لگے جس کا نام عمرو تھا، پھر آپ ﷺ کو دوبارہ اونگھ آئی، بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے۔“ پھر تیسری بار اونگھ آئی، بیدار ہوئے تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عمرو پر رحم فرمائے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون عمرو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمرو بن العاص۔“ لوگوں نے پوچھا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ یاد آ گئے، میں جب بھی لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دیتا تھا تو وہ بہت کثرت سے صدقہ لایا کرتے تھے، میں ان سے پوچھتا: یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ تو وہ جواب دیتے: اللہ کی طرف سے، اور عمرو نے سچ کہا، بے شک عمرو کے پاس بہت زیادہ خیر ہے۔“ زہیر (راوی) کہتے ہیں: چنانچہ جب فتنہ برپا ہوا تو میں نے سوچا کہ میں اس شخص کا ساتھ دوں گا جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات فرمائے تھے، چنانچہ میں ان سے کبھی جدا نہ ہوا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6029
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، زهير بن قيس انفرد بالرواية عنه سويد بن قيس، وهو أمير معروف قُتل ببَرْقةَ، لكنه في الرواية مجهول، ولذلك جهَّله الحسيني في "الإكمال" والذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 813 وقال البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 40: لا يعرف لزهير سماع من علقمة.» [ترقيم الرساله 6029] [ترقيم الشركة 5971] [ترقيم العلميه 5916]
أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخَارى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مَعقِل النَّسَفِي، حَدَّثَنَا صفوان بن صالح، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، عن يحيى بن عبد الرحمن، عن حِبّان بن أبي جَبَلة، عن عمرو بن العاص، قال: ما عَدْلَ بي رسولُ الله ﷺ وبخالدِ بن الوليد أحدًا من أصحابه في حَرْبه منذُ أَسلَمْنا (1). ذكرُ مناقب قيس بن مَخْرمة ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5917 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سے ہم اسلام لائے، جنگی امور میں میرے اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے برابر اپنے صحابہ میں سے کسی کو ترجیح نہیں دی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، حبان بن أبي جبلة لم يدرك عمرو بن العاص. يحيى بن عبد الرحمن: هو أبو شيبة الكِنْدي.» [ترقيم الرساله 6030] [ترقيم الشركة 5972] [ترقيم العلميه 5917]