کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مرحب کے قتل کا بیان
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني أبو ليلى عبد الله بن سهل أحدُ بني حارثة، عن جابر بن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن لِهذا الخَبِيثِ مَرحَبٍ؟ " فقال محمد بن مَسلَمة: أنا يا رسول الله، فقال: "قُمْ إليه، اللهم أعِنْهُ" فقام محمد بن مَسلَمة. قال: جابرٌ: فواللهِ ما رأيت حَرْبًا بين رجُلَين شهدتُه مثلَها؛ لما دَنَا أحدُهما من صاحِبِهِ وَقَعَت بينهما شَجَرةٌ، فجعَل أحدُهما يَلُوذُ بها من صاحبِه، فإذا استَتَر منها بشيءٍ، وجَدَّ صاحِبُه ما يَلِيه منها حتى يَخلُصَ إليه، فما زالا يَتحَرّفانِه بأسيافِهما، فضربَ محمدُ بن مَسْلَمة سيفَه بالدَّرَقة، فوقع فيها سيفُه ولم يَقدِر مَرحَبٌ أَن يَنزِعَ سيفَه، فضربَه محمدٌ فقتَلَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، على أنَّ الأخبارَ مُتواترةٌ بأسانيدَ كثيرةٍ أنَّ قاتلَ مَرحَبٍ أميرُ المؤمنين عليُّ بن أبي طالب ﵁، فمنها:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، على أنَّ الأخبارَ مُتواترةٌ بأسانيدَ كثيرةٍ أنَّ قاتلَ مَرحَبٍ أميرُ المؤمنين عليُّ بن أبي طالب ﵁، فمنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس خبیث مرحب کے شر کو ختم کرنے کی ذمہ داری کون لیتا ہے؟“ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اس کی طرف، اے اللہ! اس کی مدد فرما“، چنانچہ محمد بن مسلمہ کھڑے ہو گئے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے ان جیسے دو آدمیوں کے درمیان کبھی ایسی جنگ نہیں دیکھی جیسی وہاں ہوئی؛ جب وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو ان کے درمیان ایک درخت آگیا، ان میں سے ایک دوسرے سے بچنے کے لیے اس درخت کی اوٹ لینے لگا، جب بھی ایک شخص اوجھل ہوتا تو دوسرا اس کے پیچھے پہنچ جاتا، وہ دونوں اپنی تلواروں سے ایک دوسرے پر پے در پے وار کر رہے تھے، پھر محمد بن مسلمہ نے اپنی ڈھال پر اس کی تلوار کا وار روکا تو اس کی تلوار ڈھال میں دھنس گئی اور مرحب اسے نکالنے میں ناکام رہا، تب محمد بن مسلمہ نے اسے ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ کثیر اسناد کے ساتھ ایسی متواتر خبریں موجود ہیں کہ مرحب کا قاتل امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو قرار دیا گیا ہے، جن میں سے ایک یہ ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ کثیر اسناد کے ساتھ ایسی متواتر خبریں موجود ہیں کہ مرحب کا قاتل امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو قرار دیا گیا ہے، جن میں سے ایک یہ ہے:
ما حدَّثَناه أحمدُ بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن عُبيد الله النَّرْسي وعبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، قالا: حدثنا رَوْح بن عُبادة القَيْسي، حدثنا عَوف بن أبي جَمِيلة، عن ميمون أبي عبد الله، عن عبد الله بن بُريدةَ [عن أبيه بُريدةَ] (2) الأسلَمِيّ: أنَّ رسول الله ﷺ لما نزل بحَضْرة أهل خيبر، قال رسول الله ﷺ: "لأُعْطِينّ اللواءَ غدًا رجلًا يُحِبُّ الله ورسُولَه ويُحِبُّه اللهُ ورسولُه"، فلما كانَ من الغَدِ تَطاوَلَ له جماعةٌ مِن أصحابه، فدَعَا عليًّا وهو أرمَدُ، فتَفَلَ في عَينَيهِ وأعطَاهُ اللِّواءَ، ونَهَضَ معه الناسُ، فَلَقُوا أهلَ خيبر، فإذا مَرحَبٌ بين أيديهم يَرتَجِزُ، وإذا هو يقول: قد عَلِمَتْ خَيبرُ أني مَرحَبُ … شاكُ (3) السلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إذا السيوفُ أقبَلَتْ تَلهَبُ … أطعَنُ أحيانًا وحِينًا أضربُ فاختلفَ هو وعليٌّ بضَرْبتَين، فضربه عليٌّ على رأسِه حتى عَضَّ السّيفُ بأضراسِه، وسَمِعَ أهلُ العَسكَر صوتَ ضربتِه، فقتَلَه، فما تتامَّ آخرُ الناسِ حتى فُتِح لأوَّلِهم (1). هذا باب كبير قد خَرّجتُه في "الأبواب". ذكرُ مناقب سعيد بن زيد بن عَمْرو بن نُفَيل، عاشِرِ العَشَرة ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اہل خیبر کے سامنے قیام فرما تھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں“، جب اگلا دن ہوا تو صحابہ کی ایک جماعت اس امید میں گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگی، پھر آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا اور انہیں جھنڈا عطا فرما دیا، لوگ ان کے ساتھ آگے بڑھے اور اہل خیبر سے آمنا سامنا ہوا، وہاں مرحب رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا اور کہہ رہا تھا: ”خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں... اسلحہ پوش، ایک تجربہ کار بہادر ہوں، جب تلواریں شعلوں کی طرح لپکتی ہوئی آتی ہیں... تو میں کبھی نیزہ مارتا ہوں اور کبھی وار کرتا ہوں“، پھر اس کا اور علی رضی اللہ عنہ کا آمنا سامنا ہوا اور دو دو وار ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ تلوار اس کے ڈاڑھوں تک اتر گئی، لشکر والوں نے اس ضرب کی آواز سنی، اور آپ نے اسے قتل کر دیا، پس ابھی آخری لوگ پہنچے ہی نہ تھے کہ پہلے لوگوں کے لیے فتح حاصل ہو چکی تھی۔
یہ ایک عظیم باب ہے جسے میں نے ابواب میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
یہ ایک عظیم باب ہے جسے میں نے ابواب میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔