کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کعب بن اشرف کے قتل پر سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے اشعار
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدلُ، حدثنا العباس بن الفضل الأَسْفاطيّ، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني إبراهيم بن جعفر بن محمود بن محمد بن مَسلَمة، عن أبيه، عن جده، عن جابر بن عبد الله: أنَّ محمدَ بن مَسلَمة وأبا عَبْس بن جَبْر وعَبَادَ بن بِشْر قَتَلُوا كعبَ بن الأَشرَفِ، فقال النبي ﷺ حين نَظَر إليهم: "أَفَلَحتِ الوُجُوهُ (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، قد اتَّفق الشيخان ﵄ على حديث عمرو بن دينار عن جابر عن النبي ﷺ، أنه قال: "مَن لِكعب بن الأَشرَفِ؛ فإنه قد آذى الله ورسُولَه"، ولم يُخرجاه بالسِّياقة التامّة التي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5840 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5840 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا محمد بن مسلمہ، ابو عبس بن جبر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم نے (اسلام کے دشمن) کعب بن اشرف کو قتل کیا، پس جب نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”یہ چہرے کامیاب و کامران رہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کعب بن اشرف کے شر کو ختم کرنے کی کون ذمہ داری لیتا ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت ایذا دی ہے“، لیکن انہوں نے اسے اس مکمل سیاق و سباق کے ساتھ نقل نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کعب بن اشرف کے شر کو ختم کرنے کی کون ذمہ داری لیتا ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت ایذا دی ہے“، لیکن انہوں نے اسے اس مکمل سیاق و سباق کے ساتھ نقل نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا الحُسين بن محمد القَبّاني، حدثنا محمد بن عَبّاد المكّي، حدثنا محمد بن طلحة التّيْمي، عن عبد الحميد بن أبي عَبْس بن محمد بن أبي عَبْس، عن أبيه، عن جده، قال: كان كعبُ بن الأشرف يقول الشِّعرَ، ويَخذُل النبيَّ ﷺ، ويَخرُج في غَطَفَانَ، فقال النبي ﷺ: "مَن لي بابنِ الأشْرفِ، فقد آذى الله ورسولَه"، فقال محمدُ بن مَسلَمة الحارِثي: أنا يا رسولَ الله، أتُحِبُّ أن أقتُلَه، فصمَتَ رسولُ الله ﷺ، ثم قال: "ائتِ سعدَ بن مُعاذٍ فاستَشِرْه"، قال: فجئتُ سعدَ بن مُعاذ، فذكَرتُ ذلك له، فقال: امضِ على بَرَكة اللهِ، واذهبْ معك بابنِ أخي الحارثِ بن أوس بن مُعاذ، وبعَبّاد بن بِشْر الأشهلي، وبأبي عَبْس بن جَبْر الحارثي، وبأبي نائلة سِلْكانَ بن وَقْش (1) الأشْهَلي، قال: فَلَقِيتُهم فذكرتُ ذلك لهم، فجاؤوني كلُّهم إلَّا سِلْكانَ، فقال: يا أخي (2)، أنت عندي مُصدَّقٌ، ولكن لا أُحبُّ أن أفعلَ من ذلك شيئًا حتى أُشافِهَ رسولَ الله ﷺ، فذَكَر ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال: "امْضِ معَ أصحابِك"، قال: فخرَجْنا إليه ليلًا، حتى جِئناهُ في حِصْنٍ، فقال عَبّاد بن بِشْر في ذلك شعرًا شَرَح في شِعْره قَتْلَهم ومَذْهَبَهم، فقال: صَرَختُ به فلم يَعرِضْ لِصَوتي … ووافَى طالعًا مِن فوقِ خِدْرِ فعُدْتُ له فقال: مَن المُنادي … فقلتُ: أخوك عَبَّادُ بن بِشْرِ وهذِي (1) دِرعُنَا رَهْنًا فَخُذْهَا … لِشَهرٍ إِنْ وَفَى أو نصفِ شَهْرِ فقال: معاشِرٌ سَغِبُوا وجاعُوا … وما عَدِمُوا الغِنى من غيرِ فَقرِ فأقبَل مُحذِيًا يَهوي سريعًا … وقال لنا: لقد جئتُم لأمرِ وفي أَيمانِنا بِيضٌ حِدَادٌ … مُجَرَّبةٌ بها نَكوِي ونَفْري فقلتُ لصاحِبي لمّا تَدَانَى … نُبادِرُه السُّيوف كذَبْحِ عِتْرِ وعانَقَهُ ابن مَسْلَمَةَ المُرادِي (2) … يَصِيحُ عليه كاللَّيثِ الهِزَبْرِ وشدَّ بسيفِهِ صَلْتًا عليهِ … فقَطَّرَه أبو عَبْسِ بنُ جَبْرِ وكان اللهُ سادِسَنا وَليًّا … بأنعَمِ نِعْمَةٍ وأعَزِّ نَصرِ وجاء برأسِهِ نَفَرٌ كِرامٌ … أتاهُمْ هُوْدُ من صِدْقٍ وبِرِّ (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5841 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5841 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو عبس بن جبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کعب بن اشرف (نبی کریم ﷺ کی ہجو میں) اشعار کہتا تھا، آپ ﷺ کی مخالفت کرتا اور قبیلہ غطفان میں جا کر (لوگوں کو) اکساتا تھا، پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو ابن اشرف کے شر کو ختم کرے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے“، محمد بن مسلمہ حارثی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سعد بن معاذ کے پاس جاؤ اور ان سے مشورہ کرو“، محمد بن مسلمہ کہتے ہیں: میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا: اللہ کی برکت پر اس کام کے لیے نکلو، اور اپنے ساتھ میرے بھتیجے حارث بن اوس بن معاذ، عباد بن بشر اشہلی، ابو عبس بن جبر حارثی اور ابو نائلہ سلکان بن وقش اشہلی کو بھی لے جاؤ۔ محمد بن مسلمہ کہتے ہیں: میں ان سب سے ملا اور انہیں اس بارے میں بتایا، وہ سب میرے پاس آگئے سوائے سلکان کے، انہوں نے کہا: اے میرے بھائی! میرے نزدیک آپ کی بات سچی ہے لیکن میں اس وقت تک یہ کام نہیں کرنا چاہتا جب تک خود رسول اللہ ﷺ سے بالمشافہ بات نہ کر لوں، چنانچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کے ساتھ چلے جاؤ“، راوی کہتے ہیں: ہم رات کے وقت اس کی طرف نکلے یہاں تک کہ اس کے قلعے کے پاس پہنچ گئے۔ اس واقعے پر سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے اشعار کہے جن میں انہوں نے ان کے طریقہ کار اور قتل کی تفصیل بیان کی، وہ کہتے ہیں: میں نے اسے آواز دی لیکن اس نے میری پکار پر توجہ نہ دی... یہاں تک کہ وہ اپنے بالا خانے سے نکل کر آیا، میں نے اسے دوبارہ پکارا تو اس نے پوچھا: پکارنے والا کون ہے؟... میں نے کہا: تمہارا (رضاعی) بھائی عباد بن بشر ہے، اور یہ ہماری زرہیں بطورِ رہن تمہارے پاس ہیں، انہیں ایک ماہ یا آدھے ماہ کے لیے رکھ لو۔ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو فاقہ زدہ اور بھوکے ہیں... حالانکہ وہ فقر کے بجائے غنی سے محروم نہیں ہیں۔ پھر وہ خوشی خوشی تیزی سے نیچے اترا... اور ہم سے کہنے لگا: تم ایک (بڑے) کام کے لیے آئے ہو۔ اس وقت ہمارے دائیں ہاتھوں میں چمکتی ہوئی تیز تلواریں تھیں... جو ایسی آزمودہ تھیں جن سے ہم (دشمن کو) پیوندِ خاک کرتے اور ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے۔ جب وہ قریب آیا تو میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اس پر تلواروں سے اس طرح حملہ کریں گے جیسے قربانی کا جانور ذبح کیا جاتا ہے۔ پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے (گردن سے) پکڑ لیا... اور شیرِ ببر کی طرح اس پر دھاڑے۔ پھر انہوں نے اپنی تلوار اس پر پوری قوت سے چلا دی... اور ابو عبس بن جبر رضی اللہ عنہ نے اسے زمین پر پچھاڑ دیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ہمارا چھٹا کارساز اور سرپرست تھا... جس نے ہمیں بہترین نعمت اور معزز ترین فتح عطا فرمائی۔ اور اس کا سر لے کر وہ معزز نفوس حاضر ہوئے... جن کے پاس سچائی اور نیکی کے ساتھ (ہدایت کا) ہادی آیا تھا۔