کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ابو جہل کے قتل کا واقعہ
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي. وحدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل - واللفظُ له - حدثنا أبو المُثنّى العَنْبري؛ قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا يوسف بن الماجِشُون، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن أبيه، عن جده، قال: بينما أنا واقفٌ في الصفّ يومَ بدر، فنظرتُ عن يميني وشِمالي، فإذا أنا بين غُلامين من الأنصار حديثةٌ أسنانُهما، تَمنَّيتُ أن أكونَ بين أَضْلَعَ منهما، فغَمَزَني أحدهما، فقال: يا عَمّاهُ، هل تَعرفُ أبا جَهْل؟ قلت: نعم، وما حاجتُك إليه يا ابن أخي؟ قال: أُخبرتُ أنه يسُبُّ رسولَ الله ﷺ، والذي نفسي بيدِه، لئن رأيتُه لا يُفارِقُ سَوادِي سَوادَه حتى يموت الأعجلُ منا، وتعجبَّتُ لذلك، فغَمَزَنِي الآخرُ فقال لي مثلَها، فلم أنشَبْ أن نظرتُ إلى أبي جهل يَدُور في الناس، فقلتُ لهما: ألا إِنَّ هذا صاحبُكما الذي تَسألانِ عنه، فابتدَراهُ بسَيفَيهما فضرباه حتى قَتَلاهُ، ثم انصرفا إلى رسول الله ﷺ، فأخبراه، فقال: "أَيُّكما قَتلَه؟ " فقال كل واحد منهما: أنا قتلتُه، فقال: "هل مَسحتُما سَيفَيكُما؟ " قالا: لا، فنظر في السَّيفَين، فقال: "كِلاكُما قتلَه"، فقَضَى بسَلَبِه لمعاذ بن عمرو بن الجَمُوح، وكانا معاذَ بنَ عَفْراء ومعاذَ بن عَمرو بن الجموح (1). فأما أخُوه خَلّاد بن عَمرو بن الجَمُوح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5796 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5796 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوۂ بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں اور بائیں جانب دیکھا تو میں انصار کے دو نوجوان لڑکوں کے درمیان تھا جن کی عمریں بہت کم تھیں، میں نے تمنا کی کہ کاش میں ان سے زیادہ مضبوط اور توانا لوگوں کے درمیان ہوتا، اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے کہنی ماری اور پوچھا: ”اے چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟“ میں نے کہا: ہاں، لیکن بھتیجے تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم میں سے وہ مر جائے جس کی موت پہلے لکھی ہے، مجھے اس کی اس بات پر سخت حیرت ہوئی، پھر دوسرے لڑکے نے بھی مجھے اسی طرح اشارہ کر کے یہی بات کہی، ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ میں نے ابوجہل کو دیکھا جو لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا، میں نے ان دونوں سے کہا: دیکھو! یہ ہے تمہارا وہ مطلوبہ شخص جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے، یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں سونت کر اس پر جھپٹ پڑے اور اسے ضربات لگا کر قتل کر دیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعے کی خبر دی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ ان میں سے ہر ایک نے دعویٰ کیا کہ میں نے اسے قتل کیا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں، آپ ﷺ نے دونوں تلواروں کا معائنہ فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”تم دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے“، پھر آپ ﷺ نے ابوجہل کے جنگی سامان (سلب) کا فیصلہ سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے حق میں فرما دیا، اور وہ دونوں معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما تھے۔
فأخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهيعة، حدثني أبو الأسود، عن عُروة: أنَّ خَلّاد بن عَمرو بن الجَمُوح قُتِل بأحُدٍ مع رسولِ الله ﷺ. ذكرُ مناقب عُمير بن الحُمَام بن الجَمُوح ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5796 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5796 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا خلاد بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔