حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، قال: حدَّثناه موسى بن داود الضَّبِّي، حدثنا الحَكَم بن المنذر، عن عمر (2) بن بِشر الخَثعَمي، عن أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين، عن أبيه، قال: أقبل العباسُ بن عبد المطّلب إلى رسول الله ﷺ، وعليه حُلّةٌ وله ضفيرتان، وهو أبيضُ، فلما رآهُ رسولُ الله ﷺ تبسَّم، فقال العباس: يا رسول الله، ما أضحكَكَ، أَضحَكَ اللهُ سِنَّكَ؟ فقال: "أعجَبَني جَمالُ عَمِّ النبيّ"، فقال العباسُ: ما الجمالُ في الرِّجال؟ قال: "اللِّسانُ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5424 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5424 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو جعفر محمد بن علی بن حسین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے، انہوں نے ایک (خوبصورت) جوڑا پہنا ہوا تھا، ان کے بالوں کی دو مینڈھیاں تھیں، اور ان کی رنگت سفید تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو مسکرا دیے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نبی کے چچا کے جمال نے حیرت میں ڈال دیا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”مردوں میں جمال کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زبان (یعنی شیریں کلامی اور فصاحت)۔“
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا شعيب بن عمرو، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن محمد بن المنكدِر، عن جابر، قال: كان العباسُ بالمدينة، فطَلَبَتِ الأنصار ثوبًا يُلبسونه، فلم يجدُوا قميصًا يَصلُح عليه إلَّا قميص عبد الله بن أُبي، فكَسَوه إياهُ، قال جابرٌ: وكان العباسُ أسِيرَ رسول الله ﷺ يوم بدرٍ، وإنما أُخرج كَرْهًا، فحُمل إلى المدينة، فكساهُ عبدُ الله بن أُبي قَمِيصَه، فلذلك كفَّنَه رسول الله ﷺ في قَمِيصِه، مكافأةً لما فَعَل بالعباس (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5425 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5425 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ مدینہ میں (بطور قیدی) تھے، تو انصار نے انہیں پہنانے کے لیے کسی کپڑے کی تلاش کی، لیکن انہیں ان کے ناپ کی کوئی قمیص نہ ملی سوائے عبداللہ بن ابی کی قمیص کے، چنانچہ انہوں نے وہی قمیص انہیں پہنا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کے قیدی بنے تھے، اور انہیں (مشرکین مکہ کی طرف سے جنگ کے لیے) مجبور کر کے لایا گیا تھا، پھر انہیں مدینہ لایا گیا، تو عبداللہ بن ابی نے انہیں اپنی قمیص پہنائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس (منافق عبداللہ بن ابی) کو اپنی قمیص میں کفن دیا تھا، تاکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیے گئے اس کے سلوک کا بدلہ چکایا جا سکے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
فحدَّثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سُفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال: لما أُسر العباسُ لم يُوجَد له قميصٌ يُقدَر عليه إلَّا قَميصُ ابن أُبيٍّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ (بدر میں) قیدی بنائے گئے تو ان کے ناپ کی کوئی قمیص نہیں مل رہی تھی سوائے (عبداللہ) ابن ابی کی قمیص کے (تو وہی انہیں پہنائی گئی)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!