المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
الْجَمَالُ فِي الرِّجَالِ اللِّسَانُ باب: مردوں میں خوب صورتی زبان (اچھی گفتگو) میں ہے
حدیث نمبر: 5514
فحدَّثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سُفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال: لما أُسر العباسُ لم يُوجَد له قميصٌ يُقدَر عليه إلَّا قَميصُ ابن أُبيٍّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ (بدر میں) قیدی بنائے گئے تو ان کے ناپ کی کوئی قمیص نہیں مل رہی تھی سوائے (عبداللہ) ابن ابی کی قمیص کے (تو وہی انہیں پہنائی گئی)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "ابن ابی عمر" سے مراد محمد بن یحییٰ بن ابی عمر عدنی ہیں، اور "سفیان" سے مراد ابن عیینہ ہیں۔ پچھلی تفصیل دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "ابن ابی عمر" سے مراد محمد بن یحییٰ بن ابی عمر عدنی ہیں، اور "سفیان" سے مراد ابن عیینہ ہیں۔ پچھلی تفصیل دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5514 سے ماخوذ ہے۔