کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مزاح کے طور پر سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو کو بوسہ دینا
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا عمار بن عبد الجبار، حدثنا وَرْقاءُ، عن حُصَين. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المُغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير عن حُصَين، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه، قال: كان أُسَيد بن حُضَير رجلًا ضاحكًا مليحًا، فبينما هو عند رسول الله ﷺ يُحدِّث القومَ ويُضحِكُهم فطعَنَ رسولُ الله ﷺ في خاصِرَتِه، فقال: أوْجَعْتَني، قال: "اقتص" قال: يا رسول الله، إنَّ عليك قميصًا، ولم يكن عليَّ قَميصٌ، قال: فرفع رسولُ الله ﷺ قميصَه، فاحتَضَنه، ثم جعل يُقبِّل كَشْحَيهِ، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله، أردتُ هذا (1). هذا لفظُ حديثِ جَرير عن حُصين، فإنَّ حديث ورقاء مختصرٌ. صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5262 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5262 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک خوش مزاج اور خوش طبع انسان تھے، ایک بار جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے اور انہیں ہنسا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے (بطورِ مزاح) ان کے پہلو میں انگلی ماری، اسید نے عرض کیا: ”آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی بدلہ لے لو“، انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ نے قمیص پہن رکھی ہے جبکہ میرے جسم پر قمیص نہیں تھی (جب آپ نے مجھے مارا)“، راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص مبارک اٹھا دی، اس پر اسید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے لپٹ گئے اور آپ ﷺ کے پہلوؤں کو چومنے لگے، پھر عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں تو بس یہی چاہتا تھا۔“ جریر کی حصین سے روایت کے الفاظ یہی ہیں جبکہ ورقاء کی حدیث مختصر ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا قُتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَردي، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "نِعمَ الرجلُ أُسَيدُ بنُ حُضَير" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخُرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5263 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخُرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5263 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسید بن حضیر کیا ہی بہترین آدمی ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔