کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں خواب
حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن الحسن العَدْل، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا عمرو بن عَون، حَدَّثَنَا مُعتمر بن سليمان، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عمر، أنه سمع أبا بكر بن سالم يحدِّث عن أبيه، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إني رأيتُ في النوم أني أُعطِيتُ عُسًّا مملُوءًا لبنًا، فشربتُ منه حتَّى تَملّأتُ، حتَّى رأيتُه في عِرْقٍ بين الجِلد واللحم، ففضَلَتْ فَضْلةٌ فأعطيتُها عمرَ بنَ الخطّاب" فقالوا: يا نبيَّ الله، هذا علمٌ أعطاكَه اللهُ فملأتَ منه، ففضَلَتْ فَضْلةٌ وأعطيتَها عمرَ بنَ الخطاب، فقال: "أصَبتُم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4496 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے دودھ سے بھرا ہوا ایک پیالہ دیا گیا، میں نے اس میں سے اتنا پیا کہ میں سیر ہو گیا، یہاں تک کہ میں نے اس کی تری کو اپنی جلد اور گوشت کے درمیان رگوں میں دیکھا، پھر جو کچھ بچا وہ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا“، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ وہ علم ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا اور آپ اس سے لبریز ہوئے، پھر جو بچا وہ آپ نے عمر بن خطاب کو عطا فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے درست سمجھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4546
درجۂ حدیث محدثین: إسناد جيد م
تخریج حدیث «إسناد جيد من أجل أبي بكر بن سالم» [ترقيم الرساله 4546] [ترقيم الشركة 4522] [ترقيم العلميه 4496]
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا السَّرِي بن يحيى، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا زائدة، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن عبد الله، قال: لو وُضِعَ علمُ عمرَ في كِفَّةِ مِيزانٍ، ووُضِع علمُ الناس في الكِفَّة الأُخرى، لرَجَحَ عِلمُ عمر (1).
هذا حديثٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ کے علم کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور تمام لوگوں کے علم کو دوسرے پلڑے میں، تو عمر کے علم کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4547
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،زائدة: هو ابن قدامة والأعمش هو سليمان بن مهران، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 4547] [ترقيم الشركة 4523]
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا خلّاد بن يحيى، حَدَّثَنَا مِسعَر، عن عبد الملك بن عُمير، عن زيد بن وهب، عن عبد الله بن مسعود، قال: إنَّ عمر كان أتقانا للربِّ، وأقرأَنا لكتاب الله ﷿ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4498 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک عمر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ اپنے رب سے ڈرنے والے اور اللہ کی کتاب ﴿قرآن﴾ کے سب سے بہترین قاری (اور عالم) تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4548
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،مِسعر هو ابن كِدام:» [ترقيم الرساله 4548] [ترقيم الشركة 4524] [ترقيم العلميه 4498]
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا شعيب بن الليث، حَدَّثَنَا أبي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبيد بن عبد الواحد، حَدَّثَنَا ابن أبي مَريم، أخبرنا الليث بن سعد ويحيى بن أيوب، قالا: حَدَّثَنَا ابن عَجْلان، عن سعد ابن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن عائشة زوج النَّبِيّ ﷺ، قالت: قال رسول الله ﷺ: "كان في الأمم مُحدَّثون، فإنْ يكنْ في أمتي أحدٌ، فعمرُ بنُ الخَطَّاب" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مُسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4499 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پچھلی امتوں میں ایسے لوگ ہوا کرتے تھے جن سے (غیب سے) کلام کیا جاتا تھا (یعنی وہ صاحبِ الہام ہوتے تھے)، پس اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4549
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبيد بن عبد الواحد وابن عجلان» [ترقيم الرساله 4549] [ترقيم الشركة 4525] [ترقيم العلميه 4499]