کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: لوگوں کا خلافت کے بارے میں سوال اور نبی کریم ﷺ کا جواب
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان. وأخبرني محمد بن عبد الله الجَوهَري، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا فُضيل بن مرزوق الرُّؤاسي، حدثنا أبو إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن عليّ قال: قال رسول الله ﷺ: "إنْ تُوَلُّوا أبا بكر تَجِدُوه زاهدًا في الدنيا راغبًا في الآخرة، وإن تُوَلُّوا عمرَ تَجِدُوه قويًّا أمينًا لا تأخذُه في الله لومةُ لائِمٍ، وإن تُوَلُّوا عليًّا تَجِدُوه هاديًا مهديًّا يَسلُكُ بكمُ الطريقَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ حُذيفةَ بن اليَمَان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4434 - ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ حُذيفةَ بن اليَمَان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4434 - ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر بناؤ گے تو انہیں دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف رغبت رکھنے والا پاؤ گے، اور اگر تم عمر رضی اللہ عنہ کو امیر بناؤ گے تو انہیں قوی اور امانت دار پاؤ گے جو اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے، اور اگر تم علی رضی اللہ عنہ کو امیر بناؤ گے تو انہیں ہدایت یافتہ اور دوسروں کو ہدایت دینے والا پاؤ گے جو تمہیں (صحیح) راستے پر لے کر چلیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیث سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیث سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
حدَّثَناه علي بن عبد الله الحَكيمي ببغداد، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّورِي، حدثنا الأسود بن عامر شاذان، حدثنا شريك بن عبد الله، عن عثمان بن عُمير، عن شَقيق بن سَلَمة، عن حذيفة قال: قالوا يا رسولَ الله، لو استَخلفْتَ علينا، قال: "إن أستخلِفْ (1) عليكم خليفةً فتَعصُوه، يَنزِل العذاب". قالوا: لو استخلفت علينا أبا بكر، قال: "إن أستخلِفْه عليكم تَجِدُوه قويًّا في أمر الله ضعيفًا في جَسدِه" (2)، قالوا: لو استخلفتَ علينا عليًّا، قال: "إنكم لا تَفعلُوا، وإنْ تَفعلُوا تَجِدُوه هاديًا مهديًّا يَسلُكُ بكم الطريقَ المستقيم" (3). عثمان بن عُمير هذا هو أبو اليَقْظان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4435 - عثمان أبو اليقظان ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4435 - عثمان أبو اليقظان ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کاش آپ کسی کو ہمارا خلیفہ نامزد فرما دیتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں تم پر کسی کو خلیفہ بنا دوں اور تم اس کی نافرمانی کرو تو عذاب نازل ہو جائے گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: اگر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں انہیں تمہارا خلیفہ بناؤں تو تم انہیں اللہ کے معاملے میں مضبوط اور جسمانی طور پر نحیف پاؤ گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: اگر آپ علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایسا کرو گے تو نہیں، لیکن اگر تم نے انہیں خلیفہ بنا لیا تو تم انہیں ہدایت یافتہ اور دوسروں کی رہنمائی کرنے والا پاؤ گے جو تمہیں صراطِ مستقیم پر لے کر چلیں گے۔“ عثمان بن عمیر یہی ابو الیقظان ہیں۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن أيوب العَلَّاف بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مَريم، أخبرنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن عبّاس في قوله ﷿: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [آل عمران: 159]، قال: أبو بكر وعُمر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4436 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4436 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [سورة آل عمران: 159] ”اور معاملات میں ان سے مشورہ لیجیے“ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (اس سے مراد) ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔