کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کے حج کا ذکر اور اپنے ہاتھ سے قربانی کے جانور ذبح کرنا
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدَّثنا أبو موسى إسحاق بن موسى الأنصاري، حدَّثنا عبد الله بن نافع، حدَّثنا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ حجَّ سنة عشرٍ من مَقدَمِه المدينةَ، فأفردَ الحَجَّ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4381 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4381 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے دسویں سال حج کیا، اور آپ ﷺ نے حجِ افراد ادا فرمایا تھا۔
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِمٍ، الحافظ، حدَّثنا أبو العباس أحمد بن عبد الله بن شُجاع البغدادي، حدَّثنا قاسم بن محمد بن عبّاد بن عبّاد المُهلَّبي، حدَّثنا عبد الله ابن داود الخُرَيبي، عن سفيانَ، قال: حَجَّ النبيُّ ﷺ قبل أن يُهاجرَ حِجَجًا، وحجّ بعدما هاجَرَ الوداعَ، وكان جميعُ ما جاء به مئةَ بَدَنة، فيها جَمَلٌ كان في أنفه بُرَةٌ مِن فِضَّةٍ، نَحَرَ النبي ﷺ بيده ثلاثًا وستين، ونَحَرَ عليٌّ ما غَبَرَ. فقيل للثَّوريّ: مَن ذكرَه؟ فقال: جعفرُ بن محمد عن أبيه عن جابر، وابنُ أبي لَيلَى [عن الحَكَم] (1) عن مِقسَمٍ عن ابن عبّاس (2). قال الحاكم: أما الأحاديثُ المأثورة المفسرة في حَجّة الوداع فقد اتفق الشيخانِ على إخراجها بأسانيدَ صحيحةٍ على شرطهما، وأصحُّها وأتمُّها حديث جعفر بن محمد الصادق، عن أبيه، عن جابر، الذي تفرّد بإخراجه مسلمُ بن الحجَّاج (1). وقد انتهينا بمشيئة الله تعالى وعَونِه إلى ابتداء مَرضِ رسولِ الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4382 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4382 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سفیان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے ہجرت سے پہلے کئی بار حج کیے اور ہجرت کے بعد صرف حجۃ الوداع ادا فرمایا، آپ ﷺ کی قربانی کے جانوروں کی کل تعداد سو اونٹ تھی جن میں ایک ایسا اونٹ بھی شامل تھا جس کی ناک میں چاندی کا چھلا پڑا ہوا تھا، نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے تریسٹھ اونٹ ذبح کیے اور باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ذبح کیے۔ ثوری سے پوچھا گیا کہ یہ کس کی روایت ہے؟ انہوں نے کہا: جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، اور ابن ابی لیلیٰ، حکم سے، وہ مقسم سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: جہاں تک حجۃ الوداع کی تفسیر میں منقول احادیث کا تعلق ہے تو شیخین نے انہیں ان کی شرائط پر صحیح اسناد کے ساتھ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور ان میں سب سے زیادہ صحیح اور مکمل جعفر بن محمد صادق کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جسے امام مسلم نے انفرادی طور پر روایت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کی مدد سے اب ہم رسول اللہ ﷺ کے مرضِ وصال کی ابتدا کے ذکر تک پہنچ چکے ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: جہاں تک حجۃ الوداع کی تفسیر میں منقول احادیث کا تعلق ہے تو شیخین نے انہیں ان کی شرائط پر صحیح اسناد کے ساتھ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور ان میں سب سے زیادہ صحیح اور مکمل جعفر بن محمد صادق کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جسے امام مسلم نے انفرادی طور پر روایت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کی مدد سے اب ہم رسول اللہ ﷺ کے مرضِ وصال کی ابتدا کے ذکر تک پہنچ چکے ہیں۔