کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مسیلمہ کذاب اور اس کے جھوٹے دعوائے نبوت کا ذکر
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، حدَّثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعُودي، عن القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن مسعود فقال: يا أبا عبد الرحمن، إنَّ هاهنا قومًا يقرؤون على قِراءة مُسيلِمة، فقال عبد الله: أكتابٌ غيرُ كتابِ الله، أو رسولٌ غيرُ رسولِ الله بعد فُشُوِّ الإسلام؟ فردّه فجاء إليه بعدُ، فقال: يا عبدَ الله والذي لا إله غيرُه إنهم في الدار ليقرؤون على قراءة مُسيلِمة، وإنَّ معهم لمُصحفًا فيه قراءة مُسيلِمة، وذلك في زمان عثمان، فقال عبدُ الله لقَرَظةَ - وكان صاحبَ خَيلٍ -: انطلِقْ حتى تُحيطَ بالدارِ فتأخذَ مَن فيها، ففعل، فأتاه بثمانين رجلًا، فقال لهم عبدُ الله: ويَحَكم أكتابٌ غير كتابِ الله، أو رسولٌ غيرُ رسولِ الله؟ فقالوا: نتوبُ إلى الله، فإنا قد ظَلَمْنا، فتركَهُم عبدُ الله لم يُقاتِلْهم، وسَيَّرهم إلى الشام، غير رئيسِهم ابن النَّوّاحة أبَى أن يتُوب، فقال عبدُ الله لقَرَظة: اذهبْ فاضرِبْ عُنقه، واطرَحْ رأسَه في حِجْر أمّه، فإني أُراها قد عَلِمَتْ فعلَه، ففعل. ثم أنشأ عبدُ الله يُحدّثُ، فقال: إنَّ هذا جاء هو وابنُ أُثال رسولَين من عند مُسيلِمة، إلى رسول الله ﷺ، فقال له رسولُ الله ﷺ: "تشهدُ أني رسولُ الله؟ " فقال لرسول الله ﷺ: تشهدُ أن مُسيلِمةَ رسولُ الله؟ فقال رسول الله ﷺ: "لولا أنك رسولٌ لَقتلتُك"، فجرَتِ السنّةَ يومئذٍ أن لا يُقتل رسولٌ (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4378 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! یہاں کچھ لوگ مسلیمہ (کذاب) کی قرأت کے مطابق تلاوت کر رہے ہیں، عبداللہ نے فرمایا: کیا اسلام کے پھیل جانے کے بعد بھی اللہ کی کتاب کے سوا کوئی اور کتاب یا رسول اللہ کے سوا کوئی اور رسول ہو سکتا ہے؟ انہوں نے اسے واپس بھیج دیا، وہ شخص پھر آیا اور کہا: اے عبداللہ! اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس گھر میں مسلیمہ کی قرأت پڑھ رہے ہیں اور ان کے پاس ایک مصحف بھی ہے جس میں مسلیمہ کا کلام لکھا ہوا ہے، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت تھا، عبداللہ نے قرظہ سے کہا جو گھڑ سواروں کے سربراہ تھے: جاؤ اور اس گھر کا محاصرہ کر کے وہاں موجود لوگوں کو پکڑ لاؤ، انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسی (80) آدمیوں کو لے کر آئے، عبداللہ نے ان سے کہا: تم پر افسوس ہے! کیا اللہ کی کتاب کے سوا کوئی اور کتاب یا رسول اللہ کے سوا کوئی اور رسول ہے؟ انہوں نے عرض کی: ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں، ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا، چنانچہ عبداللہ نے انہیں چھوڑ دیا اور ان سے قتال نہیں کیا بلکہ انہیں شام کی طرف جلاوطن کر دیا، سوائے ان کے سرغنہ ابن نواحہ کے جس نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا، تب عبداللہ نے قرظہ سے کہا: جاؤ اس کی گردن اڑا دو اور اس کا سر اس کی ماں کی گود میں ڈال دو کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس کی ماں اس کے اس کرتوت سے واقف تھی، پس انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر عبداللہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ شخص (ابن نواحہ) اور ابن اثال، مسلیمہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا تھا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے پلٹ کر رسول اللہ ﷺ سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسلیمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کر دیتا“، پس اسی دن سے یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4426
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، والمسعُودي - وإن كان اختلط - سماعُ جعفر بن عون منه قبل اختلاطه، واختُلِف في سماع عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود من أبيه، والراجح سماعُه منه.» [ترقيم الرساله 4426] [ترقيم الشركة 4403] [ترقيم العلميه 4378]
حدَّثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا محمد بن حَيّان الأنصاري، حدَّثنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حدَّثنا مُبارك بن فَضَالة، حدَّثنا الحسن، عن أنس، قال: لقي رسولُ الله ﷺ مُسيلِمةَ، فقال له مُسيلِمة: تشهدُ أني رسولُ الله؟ فقال رسول الله ﷺ: آمنت بالله وبِرسُلِه" ثم قال رسول الله ﷺ: "إنَّ هذا رجلٌ أُخِّرَ لِهَلَكَةِ قَومِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4379 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ملاقات مسلیمہ (کذاب) سے ہوئی تو مسلیمہ نے آپ سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا“، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جو اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے پیچھے چھوڑا گیا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4427
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل مُبارك بن فَضَالة. وأخرجه دون ذكر مخاطبته للنبي ﷺ عمرُ بن شَبّة في "تاريخ المدينة" 2/ 577 عن الحجاج بن نُصير، عن قرة بن خالد، عن الحسن، عن أنس. والحجّاج بن نُصير ضعيف الحديث وكان يُلقَّن.» [ترقيم الرساله 4427] [ترقيم الشركة 4404] [ترقيم العلميه 4379]