کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: غزوۂ حنین کا ذکر اور انصار کا رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہونا
حدَّثنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكْرَم، حدَّثنا عثمان بن عمر، حدَّثنا عبد الله بن عامر الأَسلَمي، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر، قال: نَدَبَ رسولُ الله ﷺ يوم حُنين الأنصارَ، فقال: "يا معشرَ الأنصار" فأجابُوه: لبَّيك بأبينا أنت وأُمّنا يا رسول الله، قال: "أقبِلُوا بوجُوهِكم إلى الله وإلى رسوله يُدخلْكم جناتٍ تجري من تحتِها الأنهارُ" فأقبَلُوا ولهم حَنِينٌ حتى أحدَقُوا به كَبْكبةً تَحَاكُّ مَناكِبُهم، يُقاتِلون حتى هزمَ اللهُ المشركين (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث المباركَ بن فَضَالة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4367 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث المباركَ بن فَضَالة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4367 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ نے انصار کو پکارا اور فرمایا: ”اے گروہِ انصار!“ انہوں نے عرض کیا: لبیک (ہم حاضر ہیں)، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے چہروں کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی طرف متوجہ ہو جاؤ، وہ تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“، پس وہ ایک جوش کے ساتھ متوجہ ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ایک ایسے لشکر نے گھیرے میں لے لیا جن کے کندھے (ازدحام کی وجہ سے) ایک دوسرے سے رگڑ کھا رہے تھے، وہ پامردی سے لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مشرکین کو شکست دے دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مبارک بن فضالہ کی روایت اس کی شاہد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مبارک بن فضالہ کی روایت اس کی شاہد ہے۔
حدثناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا مُبارك بن فَضَالة، حدَّثنا الحسن، عن أنس بن مالك، قال: الْتَقى يومَ حُنين أهلُ مكة وأهلُ المدينة، واشتدَّ القتالُ، فولَّوا مُدبِرين، فندَبَ رسول الله ﷺ الأنصارَ، فقال: "يا معشرَ المسلمين، أنا رسولُ الله" فقالوا: إليك والله جئنا، فنكَّسُوا رُؤوسهم، ثم قاتَلوا حتى فتحَ الله عليهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4368 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4368 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ حنین کے دن اہل مکہ اور اہل مدینہ کا دشمن سے سامنا ہوا اور قتال میں شدت آ گئی تو مسلمان (شروع میں) پیٹھ پھیر کر مڑے، تب رسول اللہ ﷺ نے انصار کو پکار کر فرمایا: ”اے مسلمانوں کے گروہ! میں اللہ کا رسول ہوں“، انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم آپ ہی کی طرف آئے ہیں، پس انہوں نے سر جھکا کر ایسی جنگ کی یہاں تک کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني عاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن عبد الرحمن بن جابر، عن أبيه جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ سارَ إلى حُنين لما فرَغ من فتح مكة، جمعَ مالك بن عوف النَّصْري من بني نَصْرٍ وجُشَم، ومن سعْد بن بكر وأوزاعًا من بني هِلال، وناسًا من بني عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر، وأوعبَتْ (2) معَهم ثقيفٌ الأحلافُ، وبنو مالك، ثم سار بهم إلى رسول الله ﷺ وسار مع الأموال والنساءِ والأبناءِ، فلما سمع بهم رسولُ الله ﷺ بعث عبد الرحمن بن أبي حَدْرَد الأسلَمي، فقال: "اذهب فادخُل بالقومِ حتى تعلَمَ لنا من عِلْمِهِم"، فدخل، فمَكَثَ فيهم يومًا أو يومَين، [ثم أقبلَ فأخبرَه الخبرَ] (3) ثم قال رسولُ الله ﷺ لعمر بن الخطّاب: "ألا تسمع ما يقول ابن أبي حَدْرَدٍ؟ فقال عمرُ: كذبَ ابن أَبي حَدْرَد، فقال ابن أبي حَدْرد: إن كذَّبتني فربما كذَّبْتَ من هو خيرٌ مني، فقال عمرُ: يا رسول الله، ألا تسمعُ ما يقولُ ابن أبي حَدْرد؟ فقال رسولُ الله ﷺ: "قد كنتَ يا عمرُ ضالًّا فهَداك اللهُ ﷿" (1)، ثم بعث رسول الله ﷺ إلى صفوان ابن أُمية، فسأله أدراعًا مئةَ دِرْعٍ وما يُصلِحُها مِن عُدّتِها، فقال: أغصْبًا يا محمدُ؟ قال: بل عارِيَّةً مضمونةً، حتى نُؤدِّيَها لك"، ثم خرجَ رسولُ الله ﷺ سائرًا (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4369 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4369 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے حنین کا رخ فرمایا، ادھر مالک بن عوف نصری نے بنو نصر، جشم، سعد بن بکر، بنو ہلال کے کچھ گروہوں اور بنو عمرو بن عاصم بن عوف کے لوگوں کو جمع کر لیا تھا، اور ان کے ساتھ قبیلہ ثقیف کے حلیف اور بنو مالک بھی پوری قوت کے ساتھ شامل ہو گئے تھے، پھر وہ اپنے اموال، عورتوں اور بچوں کو ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کے مقابلے کے لیے نکلا، جب رسول اللہ ﷺ کو ان کے متعلق اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے سیدنا عبد الرحمن بن ابی حدرید اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور فرمایا: ”جاؤ اور ان لوگوں میں گھل مل جاؤ یہاں تک کہ ہمارے لیے ان کی یقینی خبر لے آؤ“، وہ گئے اور وہاں ایک یا دو دن قیام کیا، پھر واپس آ کر آپ ﷺ کو صورتحال بتائی، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم سن رہے ہو جو ابن ابی حدرید کہہ رہا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (حیرت سے) کہا: ابن ابی حدرید نے جھوٹ کہا ہے، اس پر ابن ابی حدرید رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ مجھے جھٹلا رہے ہیں تو بسا اوقات آپ نے اس ہستی (نبی ﷺ) کو بھی جھٹلایا ہے جو مجھ سے بہتر ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ سن رہے ہیں کہ ابن ابی حدرید کیا کہہ رہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! تم پہلے «ضال» تھے پھر اللہ عزوجل نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی“، پھر رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے سو زرہیں اور ان کے ساتھ کا ضروری جنگی سامان طلب فرمایا، انہوں نے پوچھا: اے محمد (ﷺ)! کیا یہ زبردستی لے رہے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ واپسی کی ضمانت کے ساتھ عاریت «عارِيَّةً مَضْمُونَةً» (ادھار) ہے، یہاں تک کہ ہم اسے تمہیں واپس کر دیں“، پھر رسول اللہ ﷺ (لشکر لے کر) روانہ ہوئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔