المستدرك على الصحيحين
كتاب المغازي والسرايا— غزوہ اور جہاد کی کتاب
ذِكْرُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ وَاجْتِمَاعِ الْأَنْصَارِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: غزوۂ حنین کا ذکر اور انصار کا رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہونا
حدیث نمبر: 4416
حدثناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا مُبارك بن فَضَالة، حدَّثنا الحسن، عن أنس بن مالك، قال: الْتَقى يومَ حُنين أهلُ مكة وأهلُ المدينة، واشتدَّ القتالُ، فولَّوا مُدبِرين، فندَبَ رسول الله ﷺ الأنصارَ، فقال: "يا معشرَ المسلمين، أنا رسولُ الله" فقالوا: إليك والله جئنا، فنكَّسُوا رُؤوسهم، ثم قاتَلوا حتى فتحَ الله عليهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4368 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ حنین کے دن اہل مکہ اور اہل مدینہ کا دشمن سے سامنا ہوا اور قتال میں شدت آ گئی تو مسلمان (شروع میں) پیٹھ پھیر کر مڑے، تب رسول اللہ ﷺ نے انصار کو پکار کر فرمایا: ”اے مسلمانوں کے گروہ! میں اللہ کا رسول ہوں“، انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم آپ ہی کی طرف آئے ہیں، پس انہوں نے سر جھکا کر ایسی جنگ کی یہاں تک کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فَضالة - وهو البصري وقد صرَّح بسماعه فانتفت شُبهة تدليسه، وتقدَّم هذا الخبر من وجه آخر صحيح عن أنس بأطول ممّا هاهنا برقم (2623).
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند مبارک بن فضالہ بصری کی وجہ سے "حسن" ہے، اور انہوں نے سماع کی صراحت کر دی ہے جس سے ان کی تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
نوٹ / توضیح: یہی روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دوسرے صحیح طریق سے اس سے زیادہ طویل متن کے ساتھ نمبر (2623) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند مبارک بن فضالہ بصری کی وجہ سے "حسن" ہے، اور انہوں نے سماع کی صراحت کر دی ہے جس سے ان کی تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
نوٹ / توضیح: یہی روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دوسرے صحیح طریق سے اس سے زیادہ طویل متن کے ساتھ نمبر (2623) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4416 سے ماخوذ ہے۔