حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن عبد الرحمن، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عبّاس قال: قُتِلَ رجلٌ من المشركين يوم الخندق، فطَلَبُوا أن يُوارُوه، فأبى رسول الله ﷺ حتى أعطوه الدية. وقُتِل من بني عامر بن لؤيٍّ عمرُو بنُ عبدِ وَدٍّ، قتله علي بن أبي طالب مُبارَزَةً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد عجيبٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4326 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد عجيبٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4326 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: خندق کے دن مشرکین کا ایک شخص ہلاک ہوا، انہوں نے اس کی لاش کو دفنانے کے لیے لینے کی خواہش ظاہر کی تو رسول اللہ ﷺ نے اس وقت تک لاش دینے سے انکار فرمایا جب تک انہوں نے اس کا فدیہ ادا نہیں کر دیا۔ اور بنی عامر بن لوی کے عمرو بن عبد ود کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دو بدو مقابلے میں قتل کیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک نہایت ہی نادر شاہد بھی موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک نہایت ہی نادر شاہد بھی موجود ہے۔
حدثنا لُؤلؤ بن عبد الله المُقتَدِري، في قصر الخليفة ببغداد، حدثنا أبو الطيب أحمد بن إبراهيم بن عبد الوهاب المصري بدمشق، حدثنا أحمد بن عيسى الخَشّاب بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ: "لَمُبارزةُ عليِّ بن أبي طالب لعمرو بن عبد وَدٍّ يوم الخندق أفضل من أعمال أمتي إلى يوم القيامة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خندق کے دن علی بن ابی طالب کا (کافر پہلوان) عمرو بن عبد ود کے مدمقابل نکل کر اس سے مقابلہ کرنا میری امت کے قیامت تک کے تمام (نفلی) اعمال سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔“
فحدثنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْرانِي، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا محمد بن فليح، عن موسى بن عقبة، عن ابن شِهَاب، قال: قُتِلَ من المشركين يوم الخندق عمرو بن عبد وَدٍّ، قتله عليُّ بن أبي طالب ﵁ (2). إسناد هذا المغازي صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین میں سے عمرو بن عبد ود قتل ہوا جسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے واصلِ جہنم کیا تھا۔
مغازی (تاریخِ غزوات) کے حوالے سے اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
مغازی (تاریخِ غزوات) کے حوالے سے اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔