کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، دجال کا قتل اور اسلام کا غلبہ
أخبرني أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الحِيْرِي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عطاء مولى أم صُبيّة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "لَيَهبِطَنّ عيسى ابن مريم حَكَمًا عَدْلًا، وإمامًا مُقسِطًا، ولَيَسلُكنَّ فَجًّا حاجًّا (1) أو مُعتَمِرًا، أو لَيُثنيِّهما، ولَيأتِيَنَّ قَبْري حتى يُسلِّم عَلَيَّ، ولأَرُدَّنَّ عليه". يقول أبو هُريرة: أيْ بَنِي أخي، إن رأيتُمُوه فقولوا: أبو هريرة يُقرِئُك السلامَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4162 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4162 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام صبیہ کے آزاد کردہ غلام عطاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عیسیٰ ابن مریم ضرور ایک عادل منصف اور انصاف پرور امام بن کر نازل ہوں گے، اور وہ حج یا عمرہ، یا ان دونوں کو ملا کر کرنے کے لیے ضرور کسی راستے سے گزریں گے، اور وہ ضرور میری قبر پر آئیں گے یہاں تک کہ مجھ پر سلام بھیجیں گے اور میں ضرور ان کے سلام کا جواب دوں گا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (اپنے بھتیجے سے) فرماتے ہیں: ”اے میرے بھتیجے! اگر تم ان سے ملو تو کہنا: ابوہریرہ نے آپ کو سلام کہا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق (ترتیب) کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق (ترتیب) کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة والحسن بن الفضل، قالا: حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا همّام، حدثنا قَتَادة، عن عبد الرحمن بن آدم، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال: "إنَّ رُوحَ اللهِ عيسى ابنَ مريم نازِلٌ فيكم، فإذا رأيتُمُوه فاعرفُوه: رجلٌ مربُوعٌ إلى الحُمْرة والبَياض، عليه ثَوبانِ مُمَصَّران، كأنَّ رأسَه يَقطُر وإن لم يُصِبْه بَلَلٌ، فيَدُقُّ الصَّليبَ، ويَقتُل الخِنزيرَ، ويَضعُ الجِزيةَ، ويَدعُو الناس إلى الإسلام، فيُهلِكُ اللهُ في زمانِه المسيحَ الدَّجّال، وتقعُ الأمَنَةُ على أهلِ الأرض، حتى تَرْتَعَنَّ (1) الأسُودُ مع الإبِل، والنمُورُ مع البقر، والذئابُ مع الغَنَم، ويَلعبَ الصبيانُ مع الحيَّات، لا تَضرُّهنّ فيَمكُث أربعين سنةً، ثم يُتَوَفَّى ويُصلِّي عليه المُسلِمون" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4163 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4163 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ کی روح عیسیٰ ابن مریم تم میں نازل ہونے والے ہیں، پس جب تم انہیں دیکھو تو پہچان لینا: وہ میانہ قد، سرخی و سفیدی مائل رنگت والے مرد ہوں گے، ان پر ہلکے زرد و سرخ رنگ کے دو کپڑے ہوں گے، ان کا سر ایسا معلوم ہوگا کہ گویا اس سے قطرے ٹپک رہے ہیں حالانکہ اسے تری نہیں پہنچی ہوگی، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے، اللہ ان کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا اور زمین والوں پر ایسی امن و سلامتی نازل ہوگی کہ شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، وہ زمین پر چالیس سال قیام فرمائیں گے، پھر ان کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔