أخبرني الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا أبو الحسن بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن منبِّه، قال: حديثُ صالح بن عبيد بن جابر بن ثمود بن جاثِر بن سام بن نوح، قال وهبٌ: إِنَّ الله بعث صالحًا إلى قومه حين راهَقَ الحُلُم، وكان رجلًا أحمر إلى البياض سبط الشعر، وكان يمشي حافيًا كما كان عيسى ابن مريم ﵇ لا يتخذُ حِذاءً، ولا يَدَّهِنُ، ولا يتخذ بيتًا ولا مَسكَنًا، ولا يزال مع ناقةِ ربَّه حيثما توجّهت توجه معها، وحيثما نزلت نزل معها، وكان قد صام أربعين يومًا قبل أن تُعقر الناقة، وكانت على يده اليمنى شامةٌ علامةً، فلَبِثَ فيهم أربعين عامًا يدعوهم إلى الله مِن لَدُنْ كان غلامًا إلى أن شَمِط وهم لا يزدادون إلا طغيانًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4067 - وعن وهب بإسناد واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4067 - وعن وهب بإسناد واه
حافظ طلحہ بابر
وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے صالح بن عبید بن جابر بن ثمود بن جاثر بن سام بن نوح کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اس وقت مبعوث فرمایا جب وہ بلوغت کے قریب تھے۔ وہ سرخی مائل سفید رنگت والے اور سیدھے بالوں والے شخص تھے، اور وہ ننگے پاؤں چلتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام (چلتے تھے)، وہ نہ جوتا پہنتے تھے، نہ تیل لگاتے تھے، اور نہ ہی انہوں نے کوئی گھر یا ٹھکانہ بنایا ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کی اونٹنی کے ساتھ رہتے تھے، جدھر وہ رخ کرتی یہ بھی اسی طرف چل پڑتے، اور جہاں وہ پڑاؤ ڈالتی یہ بھی وہیں ٹھہر جاتے۔ اونٹنی کے پاؤں کاٹے جانے سے پہلے انہوں نے چالیس دن تک روزے رکھے تھے۔ ان کے دائیں ہاتھ پر نشانی کے طور پر ایک تل تھا۔ پس وہ چالیس سال تک ان کے درمیان رہے اور انہیں اللہ کی طرف بلاتے رہے، لڑکپن سے لے کر بال سفید ہونے تک، لیکن وہ (قوم) سرکشی میں ہی بڑھتی چلی گئی۔“
حدثنا أبو زكريا العنبري، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجِي، حدثنا يعقوب بن كعب الحلبي، حدثنا حرملة بن عبد العزيز بن الربيع بن سبرة، حدثني أبي، عن أبيه، عن جده، قال: نزلنا الحجر في غزوة تبوك، فقال النبي ﷺ: "مَن كان عَمِلَ من هذا الماء طعامًا فليُلْقِه"، قال: فمنهم من عَجَنَ العَجِين، ومنهم من حاسَ الحَيْسَ، فألقوه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إنما اتفقا على حديث جويرية بن أسماء، عن نافع (2)، عن ابن عمر: أنَّ الناس نزلُوا مع رسول الله ﷺ حِجْر ثَمُود، بغير هذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4068 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، إنما اتفقا على حديث جويرية بن أسماء، عن نافع (2)، عن ابن عمر: أنَّ الناس نزلُوا مع رسول الله ﷺ حِجْر ثَمُود، بغير هذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4068 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوۂ تبوک کے موقع پر ہم نے مقامِ حجر میں پڑاؤ ڈالا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے اس (کنویں کے) پانی سے کھانا تیار کیا ہے وہ اسے پھینک دے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ ان میں سے بعض لوگوں نے آٹا گوندھ لیا تھا اور بعض نے حیس (کھجور، گھی اور پنیر کا ملغوبہ) بنا لیا تھا، پس انہوں نے اسے پھینک دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) کا جویریہ بن اسماء کی نافع سے اور ان کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث پر اتفاق ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجرِ ثمود میں اترے، مگر اس کے الفاظ مختلف ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) کا جویریہ بن اسماء کی نافع سے اور ان کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث پر اتفاق ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجرِ ثمود میں اترے، مگر اس کے الفاظ مختلف ہیں۔