حدیث نمبر: 4111
أخبرني الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا أبو الحسن بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن منبِّه، قال: حديثُ صالح بن عبيد بن جابر بن ثمود بن جاثِر بن سام بن نوح، قال وهبٌ: إِنَّ الله بعث صالحًا إلى قومه حين راهَقَ الحُلُم، وكان رجلًا أحمر إلى البياض سبط الشعر، وكان يمشي حافيًا كما كان عيسى ابن مريم ﵇ لا يتخذُ حِذاءً، ولا يَدَّهِنُ، ولا يتخذ بيتًا ولا مَسكَنًا، ولا يزال مع ناقةِ ربَّه حيثما توجّهت توجه معها، وحيثما نزلت نزل معها، وكان قد صام أربعين يومًا قبل أن تُعقر الناقة، وكانت على يده اليمنى شامةٌ علامةً، فلَبِثَ فيهم أربعين عامًا يدعوهم إلى الله مِن لَدُنْ كان غلامًا إلى أن شَمِط وهم لا يزدادون إلا طغيانًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4067 - وعن وهب بإسناد واه
حافظ طلحہ بابر

وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے صالح بن عبید بن جابر بن ثمود بن جاثر بن سام بن نوح کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اس وقت مبعوث فرمایا جب وہ بلوغت کے قریب تھے۔ وہ سرخی مائل سفید رنگت والے اور سیدھے بالوں والے شخص تھے، اور وہ ننگے پاؤں چلتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام (چلتے تھے)، وہ نہ جوتا پہنتے تھے، نہ تیل لگاتے تھے، اور نہ ہی انہوں نے کوئی گھر یا ٹھکانہ بنایا ہوا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کی اونٹنی کے ساتھ رہتے تھے، جدھر وہ رخ کرتی یہ بھی اسی طرف چل پڑتے، اور جہاں وہ پڑاؤ ڈالتی یہ بھی وہیں ٹھہر جاتے۔ اونٹنی کے پاؤں کاٹے جانے سے پہلے انہوں نے چالیس دن تک روزے رکھے تھے۔ ان کے دائیں ہاتھ پر نشانی کے طور پر ایک تل تھا۔ پس وہ چالیس سال تک ان کے درمیان رہے اور انہیں اللہ کی طرف بلاتے رہے، لڑکپن سے لے کر بال سفید ہونے تک، لیکن وہ (قوم) سرکشی میں ہی بڑھتی چلی گئی۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ
تخریج حدیث «إسناده واهٍ، كما قال الذهبي في "تلخيصه" من أجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك، وكذَّبه أحمد.» [ترقيم الرساله 4111] [ترقيم الشركة 4089] [ترقيم العلميه 4067]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده واهٍ، كما قال الذهبي في "تلخيصه" من أجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك، وكذَّبه أحمد.
درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (سخت کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے کہا۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عبدالمنعم بن ادریس" ہے جو متروک ہے اور امام احمد نے اس کی تکذیب کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4111 سے ماخوذ ہے۔