حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُباب، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن الحسن، عن الأحنف بن قيس، عن العباس بن عبد المطلب، قال: قال رسول الله ﷺ: "قال نبي الله داود: يا رب، أسمعُ الناسَ يقولون: رَبُّ إسحاق، قال: إنَّ إسحاق جادَ لي بنفسه" (2).
هذا حديث صحيح، رواه الناس عن علي بن زيد بن جدعان، تفرد به.
هذا حديث صحيح، رواه الناس عن علي بن زيد بن جدعان، تفرد به.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ اسحاق کا رب۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک اسحاق نے میرے لیے اپنی جان کی سخاوت (قربانی) پیش کی تھی۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اسے لوگوں نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کیا ہے، اور وہ اس میں منفرد ہیں۔
یہ حدیث صحیح ہے، اسے لوگوں نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کیا ہے، اور وہ اس میں منفرد ہیں۔
أخبرني أبو أحمد محمد بن إسحاق العَدْل الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حماد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدِّي، عن عكرمة، عن ابن عبّاس، قال: كانت سارة بنت تسعين سنة وإبراهيم ابن عشرين ومئة سنة، فلما ذهب عن إبراهيم الرَّوعُ وجاءته البشرى بإسحاق وأمن ممن كان يخافه، قال: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ (39)﴾ [إبراهيم: 39]، فجاء جبريل ﵇ إلى سارة بالبشرى، فقال أبشري بولد يقال له: إسحاق، ومن وراء إسحاق يعقوب، قال: فضربت جبهتها عجبًا، فذلك قوله: ﴿فَصَكَّتْ وَجْهَهَا﴾ [الذاريات: 29]، وقالت: ﴿أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ (72) قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ [هود: 72 - 73] (1). قد احتج البخاري بعِكرمة واحتج مسلم بالسُّدِّي، والحديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4042 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4042 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سیدہ سارہ علیہا السلام نوے سال کی تھیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک سو بیس سال کے تھے۔ پس جب ابراہیم سے خوف دور ہو گیا اور ان کے پاس اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری آئی اور وہ ان (فرشتوں) سے بے خوف ہو گئے جن سے وہ ڈر رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [سورة إبراهيم: 39] پس جبرائیل علیہ السلام سارہ علیہا السلام کے پاس خوشخبری لے کر آئے اور کہا: ”اسحاق نامی بچے کی خوشخبری قبول کیجیے، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو انہوں نے تعجب سے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَصَكَّتْ وَجْهَهَا﴾ [سورة الذاريات: 29]، اور کہنے لگیں: ﴿أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ ٭ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ [سورة هود: 72-73]۔“
امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سدی سے حجت پکڑی ہے، اور اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سدی سے حجت پکڑی ہے، اور اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔