حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدَّثنا سعيدٌ بن سليمان، حدَّثنا سليمان بن داود اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ثلاث مَن كُنَّ فيه، حاسَبَه الله حسابًا يسيرًا، وأدخله الجنة برحمته" قالوا: لمن يا رسول الله، قال: "تُعطِي مَن حَرَمَك، وتَعفُو عمَّن ظَلَمَك، وتَصِلُ مَن قَطَعَك" قال: فإذا فعلتُ ذلك، فما لي يا رسول الله؟ قال: "أن تُحاسَبَ حسابًا يسيرًا، ويُدخِلَك الله الجنةَ برحمتِه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3912 - سليمان بن داود اليمامي ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3912 - سليمان بن داود اليمامي ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس کا حساب نہایت آسانی سے فرمائے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا“، صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ (خوش نصیب) کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے عطا کرو جو تمہیں محروم رکھے، اسے معاف کر دو جو تم پر ظلم کرے، اور اس سے تعلق جوڑو جو تم سے ناطہ توڑ لے۔“ سائل نے عرض کی: (اے اللہ کے رسول!) اگر میں یہ اوصاف اپنا لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تمہارا حساب بہت آسانی سے لیا جائے گا اور اللہ تمہیں اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد القُرشي بالكوفة، حدَّثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدَّثنا الحسن بن عطيَّة، عن حمزة بن حبيب، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلقَمة، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿لَتَرْكَبُنَّ (1) طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ﴾ [الانشقاق: 19]، قال: السماء (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3913 - لم يخرجا للحسن شيئا وفيه ضعف
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3913 - لم يخرجا للحسن شيئا وفيه ضعف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ﴾ [سورة الانشقاق: 19] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) آسمان (کی تہیں اور منازل) ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدَّثنا محمد بن غالب، حدَّثنا عَمرٌو بن عَوْن، حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ﴾ [الانشقاق: 19] قال: يعني نبيَّكم ﷺ، يقول: حالًا بعد حالٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! [85 - تفسير سورة البروج] ﷽
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! [85 - تفسير سورة البروج] ﷽
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ﴾ [سورة الانشقاق: 19] کے متعلق مروی ہے کہ اس سے مراد تمہارے نبی ﷺ ہیں، (جس کا مفہوم یہ ہے کہ) آپ ﷺ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف (ترقی فرماتے ہوئے معراج پر) تشریف لے جائیں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!