حدیث نمبر: 3958
حدَّثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدَّثنا محمد بن غالب، حدَّثنا عَمرٌو بن عَوْن، حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ﴾ [الانشقاق: 19] قال: يعني نبيَّكم ﷺ، يقول: حالًا بعد حالٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! [85 - تفسير سورة البروج] ﷽
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ﴾ [سورة الانشقاق: 19] کے متعلق مروی ہے کہ اس سے مراد تمہارے نبی ﷺ ہیں، (جس کا مفہوم یہ ہے کہ) آپ ﷺ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف (ترقی فرماتے ہوئے معراج پر) تشریف لے جائیں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3958
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن غالب: هو المعروف بتمتام، وأبو بشر: هو جعفر بن إياس أبي وحشية.» [ترقيم الرساله 3958] [ترقيم الشركة 3936]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. محمد بن غالب: هو المعروف بتمتام، وأبو بشر: هو جعفر بن إياس أبي وحشية.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ محمد بن غالب سے مراد جو "تمتام" کے نام سے معروف ہیں، اور ابو بشر سے مراد "جعفر بن ایاس ابی وحشیہ" ہیں۔
وأخرجه البخاري (4940) عن سعيد بن النضر، عن هشيم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4940) نے سعید بن نضر سے، انہوں نے ہشیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3958 سے ماخوذ ہے۔