کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: دجال کے خروج پر لوگوں کا تین گروہوں میں بٹ جانا
أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر بن موسى المزكِّي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا محبوب بن موسى الأنطاكي، حدثنا ابن المبارَك، حدثنا سفيان بن سعيد، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي الزَّعْراء قال: ذُكِرَ الدَّجّالُ عند عبد الله بن مسعود، فقال: تفترقون أيها الناسُ بخروجه ثلاثَ فِرَق. ثم قال ابن مسعود: يا أيها الكفار ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (46) حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (47) فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ (48)﴾، ثم قال ابن مسعود: ألا تَرَونَ في هؤلاء من خيرٍ ألَّا يُترَك فيها، فإذا أراد الله أن لا يَخرُجَ منها أحدٌ غيَّر وجوهَهم وألوانَهم، فيَخِرُّ الرجلُ من المؤمنين فيقول: يا ربِّ، فيقول: من عَرَفَ رجلًا فليُخرِجْه، فيَنظُر فلا يعرفُ أحدًا، فيناديه الرجلُ: يا فلانُ، أنا فلانٌ، فيقول: ما أعرفُ، فعندَ ذلك يقولون: و ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (107)﴾ فيقول عندَ ذلك: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ (108)﴾ [المؤمنون: 107 - 108]، فإذا قال ذلك، أطبَقَت عليهم جهَنَّمُ فلا يُخرِجُ بعد ذلك أحدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ابوزعراء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! اس کے خروج کے وقت تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے (اہلِ جہنم کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: اے کافرو! ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (46) حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (47) فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ (48)﴾ [سورة المدثر: 42-48] ”تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟ وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے، اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلاتے تھے، اور ہم حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر باتیں بناتے تھے، اور ہم روزِ جزا کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی، پس اب ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔“ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم ان (جہنمیوں) میں کوئی ایسی خیر دیکھتے ہو کہ انہیں وہاں نہ چھوڑا جائے؟ پس جب اللہ تعالیٰ یہ ارادہ فرمائے گا کہ اب ان میں سے کوئی (کافر) باہر نہ نکلے تو ان کے چہرے اور رنگ تبدیل کر دے گا، تب مومنین میں سے کوئی شخص (کسی کو نکالنے کے لیے) جھکے گا اور کہے گا: اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: ”جو کسی (جاننے والے) کو پہچانتا ہے وہ اسے نکال لے“، پس وہ غور سے دیکھے گا مگر کسی کو نہیں پہچان سکے گا، تب کوئی (جہنمی) اسے پکارے گا: اے فلاں! میں فلاں ہوں، تو وہ کہے گا: ”میں (تمہیں) نہیں پہچانتا“، اس وقت وہ کہیں گے: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (107)﴾ [سورة المؤمنون: 107] ”اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے، پھر اگر ہم نے دوبارہ (کفر) کیا تو یقیناً ہم ظالم ہوں گے“، تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [سورة المؤمنون: 108] ”تم اسی میں ذلیل ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو“، پس جب اللہ یہ فرما دے گا تو ان پر جہنم بند کر دی جائے گی اور پھر اس کے بعد کوئی بھی وہاں سے نہیں نکل سکے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3917
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليِّن
تخریج حدیث «إسناده ليِّن، أبو الزعراء - وهو عبد الله بن هانئ الكوفي - لم يرو عنه غير ابن أخته سلمة بن كهيل، وقد وثقه ابن سعد والعجلي وابن حبان، لكن قال البخاري في "تاريخه" 5/ 221: لا يتابع في حديثه. يعني هذا الحديث.» [ترقيم الرساله 3917] [ترقيم الشركة 3896]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يَعلى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن أبي موسى في قوله ﷿: ﴿فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ (51)﴾ [المدثر: 51]، قال: القَسْورةُ: الرُّماة رجالُ القَنْص (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3875 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ﴾ [سورة المدثر: 51] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «قسوره» سے مراد وہ تیر انداز ہیں جو شکار کرتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3918
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو ظبيان: هو حُصين بن جندب الكوفي.» [ترقيم الرساله 3918] [ترقيم الشركة 3897] [ترقيم العلميه 3875]
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سُريج بن النُّعمان، حدثنا سُهيل بن أبي حَزْم، حدثنا ثابت البُناني، عن أنس بن مالك قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ قرأَ: ﴿وَمَا يَذْكُرُونَ (1) إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ [المدثر: 56]، قال: "يقول ربُّكم ﷿: أنا أَهلٌ أن أُتَّقَى أن يُجعَلَ معي إلهٌ آخرُ، وأنا أهلٌ لمن اتَّقى أن يَجعَل معى إلهًا آخرَ أن أَغفِرَ له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [75 - تفسير سورة القيامة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3876 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت ﴿وَمَا يَذْكُرُونَ (1) إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ [سورة المدثر: 56] پڑھتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے: میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بنایا جائے، اور جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، تو میں اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3919
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف سهيل بن أبي حزم.» [ترقيم الرساله 3919] [ترقيم الشركة 3898] [ترقيم العلميه 3876]