کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تفسیرِ سورۃ الممتحنہ — آیتِ لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء کے نزول کا سبب
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾ إلى قوله: ﴿وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (3)﴾ [الممتحنة:1 - 3]: في مكاتَبة حاطبِ ابن أبي بَلْتعة ومن معه إلى كفّار قريش يُحذِّرونهم، وقوله تعالى: ﴿إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ﴾ [الممتحنة: 4]، نُهوا أن يتأسَّوْا باستغفار إبراهيم لأبيه فيستغفروا للمشركين، وقوله: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [الممتحنة: 5]، لا تُعذِّبْنا بأيديهم ولا بعذابٍ من عندِك فيقولون: لو كان هؤلاءِ على الحقِّ ما أصابهم هذا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3802 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3802 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾ سے لے کر ﴿وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾ [الممتحنة: 1 - 3] تک کے متعلق روایت ہے: یہ حاطب بن ابی بلتعہ اور ان کے ساتھیوں کے کفارِ قریش کو خط لکھنے اور انہیں (مسلمانوں کے ارادوں سے) خبردار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی، اور اللہ کا قول ﴿إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ﴾ [الممتحنة: 4] اس میں مسلمانوں کو منع کیا گیا کہ وہ اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے میں ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کریں یعنی مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا نہ کریں، اور اللہ کا فرمان ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [الممتحنة: 5] یعنی ہمیں ان کے ہاتھوں عذاب نہ دینا اور نہ اپنی طرف سے کسی عذاب میں مبتلا کرنا کہ وہ یہ کہنے لگیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو انہیں یہ تکلیف نہ پہنچتی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ (2) أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الممتحنة: 6]، قال: في صُنْع إبراهيم كلِّه إِلَّا في الاستغفار لأبيه وهو مشركٌ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3803 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3803 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الممتحنة: 6] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے تمام افعال میں (تمہارے لیے) بہترین نمونہ ہے سوائے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے کے جبکہ وہ مشرک تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔