أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا يعلى بن عُبيد، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوْري، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عَبَاية بن رِبْعي، عن علي في قوله ﷿: ﴿وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى﴾ [الفتح: 26]، قال: لا إله إلَّا الله والله أكبرُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3717 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3717 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى﴾ ”اور اللہ نے ان کے لیے تقویٰ کی بات کو لازم کر دیا“ [سورة الفتح: 26] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کلمہ تقویٰ سے مراد) «لا إله إلَّا الله والله أكبرُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش عن خَيثَمة، قال: قرأ رجلٌ على عبد الله سورة الفَتْح، فلما بلغ: ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ [الفتح: 29]، قال: ليَغِيظَ اللهُ بالنبي ﷺ وبأصحابِه الكفارَ، قال: ثم قال عبد الله: أنتم الزَّرعُ، وقد دَنَا حصادُه (1). حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3718 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3718 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
خیثمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے سورہ فتح کی تلاوت کی، جب وہ اس آیت پر پہنچا: ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ ”جیسے ایک کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ ان کے ذریعے کافروں کو جلائے“ [سورة الفتح: 29] تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تاکہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کے ذریعے کفار کو غیظ و غضب میں مبتلا کر دے“، پھر فرمایا: ”تم وہ کھیتی ہو جس کی کٹائی کا وقت قریب آ چکا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا أبو أسامة ووَكِيع، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: ﴿لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ [الفتح: 29]، قالت: أصحابِ رسول الله ﷺ؛ أُمِروا بالاستغفار لهم فسَبُّوهم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ 49 - ومن تفسير سورة الحُجرات
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3719 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ 49 - ومن تفسير سورة الحُجرات
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3719 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ ”تاکہ ان کے ذریعے کفار کو جلائے“ [سورة الفتح: 29] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ہیں؛ (بعد میں آنے والوں کو) حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ ان (صحابہ) کے لیے استغفار (مغفرت کی دعا) کریں، لیکن اس کے برعکس انہوں نے انہیں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔