کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا محمد بن جَرِير الفقيه، حدثنا أبو كُريب: سمعتُ أبا أسامة وسُئِلَ عن قول الله ﷿: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾ [سبأ: 28]، فقال: حدثنا الأعمش، عن مجاهد، عن عُبيد بن عُمَير، عن أبي ذرٍّ قال: طلبتُ رسولَ الله ﷺ ليلةً فوجدتُه قائمًا يصلِّي، فأطال الصلاةَ، ثم قال: "أُوتِيتُ الليلةَ خمسًا لم يُؤتَها نبيٌّ قبلي: أُرسِلتُ إلى الأحمرِ والأسود - قال مجاهد: الإِنسِ والجنّ - ونُصِرتُ بالرُّعب، فيُرعَبُ العدوُّ وهو على مَسِيرة شهر، وجُعِلَت ليَ الأرضُ مسجدًا وطَهُورًا، وأُحِلَّت ليَ الغنائمُ، ولم تَحِلَّ لأحدٍ قبلي، وقيل لي: سَلْ تُعطَهْ، فاختبأتُها شفاعةً لأمَّتي، فهي نائلةٌ من لم يُشرِكْ بالله شيئًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجا ألفاظًا من الحديث متفرِّقة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3587 - على شرط البخاري ومسلم وخرجا منه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجا ألفاظًا من الحديث متفرِّقة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3587 - على شرط البخاري ومسلم وخرجا منه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو تلاش کیا تو آپ ﷺ کو کھڑے نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ ﷺ نے بہت طویل نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”آج رات مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: مجھے سرخ اور سیاہ (یعنی تمام انسانوں اور جنوں) کی طرف بھیجا گیا، میری مدد رعب کے ذریعے کی گئی کہ دشمن ایک مہینے کی مسافت پر ہونے کے باوجود رعب زدہ ہو جاتا ہے، میرے لیے زمین کو سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی چیز (تیمم کے لیے) بنا دیا گیا، میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا، اور مجھ سے کہا گیا کہ مانگیں آپ کو دیا جائے گا، تو میں نے اس دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا کر رکھ لیا، پس یہ شفاعت ہر اس شخص کو پہنچے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوگا۔“ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اگرچہ اس کے مختلف الفاظ متفرق طور پر روایت کیے ہیں۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن التميمي، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [سبأ: 52]، قال: يَسألون الردَّ، وليس بحينِ ردٍّ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [35 - ومن سورة الملائكة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3588 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [35 - ومن سورة الملائكة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3588 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ﴾ [سورة سبا: 52] کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: وہ (دنیا میں) واپسی کا سوال کریں گے لیکن اب واپسی کا وقت نہیں رہا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔