کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: شبِ معراج میں انبیاء علیہم السلام کے درمیان قیامت کے بارے میں باہمی گفتگو
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَازَة، عن عبد الله بن مسعود قال: لما أُسرِيَ ليلةَ أُسرِيَ بالنبي ﷺ، لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى، فتذاكروا الساعةَ، فبدؤوا بإبراهيمَ فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، ثم موسى، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فتراجَعُوا الحديثَ إلى عيسى، فقال عيسى: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيما دون وَجْبتِها فلا نعلَمُها - قال: فذَكَرَ من خروج الدَّجال - فأَهبِطُ فاقتلُه، ويَرجِعُ الناسُ إلى بلادهم فيَستقبِلُهم يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلُون، فلا يَمرُّون بماءٍ إِلَّا شربوه ولا يَمرُّون بشيءٍ إِلَّا أَفسدُوه، فيَجأَرُون إلى الله فيَدعُون اللهَ فيُميتُهم، فتَجأَرُ الأرضُ إلى الله من رِيحهم، ويَجأَرُون إليَّ، فأَدعُو، فيُرسِل السماءَ بالماء، فيحمل أجسامَهم فيَقذِفُها في البحر، ثم تُنسَفُ الجبالُ وتُمدُّ الأرضُ مدَّ الأَدِيم، فعَهِدَ اللهُ إليَّ إذا كان ذلك، فإنَّ الساعة من الناس كالحامل المُتِمِّ، لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بولادتِها ليلًا أو نهارًا. قال عبد الله: فوجدتُ تصديق ذلك في كتاب الله ﷿: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ الآية [الأنبياء: 96، 97]، قال: وجميعُ الناس من كل مكانٍ جاؤوا منه يومَ القيامة فهو حَدَبٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فأمّا مُؤْثِر فليس بمجهولٍ، قد روى عن عبد الله بن مسعود والبراء بن عازب، وروى عنه جماعةٌ من التابعين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3448 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فأمّا مُؤْثِر فليس بمجهولٍ، قد روى عن عبد الله بن مسعود والبراء بن عازب، وروى عنه جماعةٌ من التابعين (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3448 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی، آپ ﷺ کی ملاقات سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی۔ انہوں نے آپس میں قیامت کے بارے میں تذکرہ چھیڑا، پہلے انہوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس اس کے (وقت کے) بارے میں کوئی علم نہ تھا، پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو ان کے پاس بھی اس کا علم نہ تھا، پھر بات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹی تو انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت کے برپا ہونے کے اصل وقت کے علاوہ دیگر تمام معاملات کا مجھ سے عہد لیا ہے (یعنی اس کا وقت تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا)،“ پھر انہوں نے دجال کے خروج کا ذکر کیا اور بتایا: ”میں نازل ہو کر اسے قتل کروں گا، پھر جب لوگ اپنے شہروں کو لوٹیں گے تو ان کا سامنا یاجوج وماجوج سے ہوگا جو ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے۔“ وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے اسے برباد کر دیں گے، پھر لوگ اللہ کے حضور گریہ و زاری کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج وماجوج کو موت دے دے گا، یہاں تک کہ زمین ان کی بو سے تعفن زدہ ہو کر اللہ کے حضور فریاد کرے گی، پھر لوگ میری طرف رجوع کریں گے تو میں دعا کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جو ان کے جسموں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی، پھر پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اور زمین کو «اديم» (صاف کیے ہوئے چمڑے) کی طرح پھیلا کر وسیع کر دیا جائے گا، تو اللہ نے مجھ سے عہد فرمایا ہے کہ جب یہ حالات ہو جائیں تو قیامت لوگوں کے لیے اس حاملہ عورت کی طرح ہوگی جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، جس کے گھر والوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اچانک بچے کو جنم دے دے، رات کو یا دن کو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس بات کی تصدیق اللہ کی کتاب میں پائی ہے: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [سورة الأنبياء: 96، 97] ”یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ اور سچا وعدہ قریب آ جائے گا۔“ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن تمام لوگ جس بھی جگہ سے اٹھ کر آئیں گے وہ «حَدَبٌ» (بلندی) کہلائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، رہا معاملہ «مُؤْثِر» کا تو وہ مجہول راوی نہیں ہے، اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے احادیث روایت کی ہیں اور اس سے تابعین کی ایک بڑی جماعت نے روایت لی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، رہا معاملہ «مُؤْثِر» کا تو وہ مجہول راوی نہیں ہے، اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے احادیث روایت کی ہیں اور اس سے تابعین کی ایک بڑی جماعت نے روایت لی ہے۔
حدثنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، عن يزيد النَّحْوي، عن عِكْرمة عن ابن عبَّاس قال: لما نزلت ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ [الأنبياء: 98]، فقال المشركون: الملائكةُ وعيسى وعُزَيرٌ يُعبَدون من دون الله، فقال: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ﴾ الذين يُعبَدون ﴿آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ [الأنبياء: 99]، قال: فنزلت: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ [الأنبياء: 101] عيسى وعُزَيرٌ والملائكةُ (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [22 - ومن تفسير سورة الحج] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3449 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3449 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ”بے شک تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو، تم سب اس میں داخل ہونے والے ہو۔“ [سورة الأنبياء: 98] تو مشرکین (اعتراضاً) کہنے لگے: فرشتوں، عیسیٰ اور عزیر علیہم السلام کی بھی تو اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے (تو کیا وہ بھی جہنم میں جائیں گے؟)، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ”اگر یہ (معبود) واقعی الٰہ ہوتے تو اس (جہنم) میں وارد نہ ہوتے۔“ [سورة الأنبياء: 99] یعنی وہ باطل معبود جن کی عبادت پر وہ راضی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے (مقدس ہستیوں کے بارے میں) یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ”بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے ہی بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے۔“ [سورة الأنبياء: 101] اور اس سے مراد سیدنا عیسیٰ، سیدنا عزیر علیہم السلام اور فرشتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔