أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد قال: حدثني سِمَاك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة، عن العبَّاس بن عبد المطَّلِب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبطحاءِ فمرَّتْ سحابةٌ، فقال رسول الله ﷺ: "أتدرونَ ما هذا؟ " فقلنا: اللهُ ورسولُه أعلمُ، فقال: "السَّحَابُ" فقلنا: السَّحابُ، فقال: "والمُزْنُ" فقلنا: والمُزْن، فقال: "والعَنَانُ" ثم سَكَتَ، ثم قال: "تدرونَ كم بين السماءِ والأرض؟ " فقلنا: الله ورسوله أعلمُ، فقال: "بينهما مَسِيرةُ خمسِ مئةِ سنة، وبين كلِّ سماءٍ إلى السماء التي تَلِيها مسيرةُ خمسِ مِئة سنة، وكِثَفُ كلِّ سماء مسيرةُ خمسِ مئة سنة، وفوقَ السماءِ السابعة بحرٌ بين أعلاهُ وأسفلِه كما بين السماء والأرض، ثم فوقَ ذلك ثمانيةُ أوْعالٍ بين رُكَبِهم وأظلافِهم كما بين السماء والأرض، واللهُ فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمالِ بني آدمَ شيءٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3428 - وقد مر وهو صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3428 - وقد مر وهو صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم بطحاء کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک بادل گزرا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ «السَّحَابُ» (بادل) ہے۔“ ہم نے بھی کہا: یہ بادل ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ «المُزْنُ» (برستا ہوا بادل) ہے۔“ ہم نے بھی کہا: یہ «المُزْنُ» ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ «العَنَانُ» (آسمان کی بلندی پر چھایا ہوا بادل) ہے۔“ پھر آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، پھر پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے جس کے اوپر اور نچلے حصے کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ «أوْعالٍ» (پہاڑی بکروں کی شکل کے فرشتے) ہیں جن کے گھٹنوں اور کھروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کے بھی اوپر ہے اور اس پر بنی آدم کے اعمال میں سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار الزاهد، حدثنا أبو نَصْر أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو غسّان مالك بن إسماعيل، حدثنا شَرِيك، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة، عن العبَّاس بن عبد المطَّلب في قول الله ﷿: ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴾ [الحاقة: 17]، قال: ثمانيةُ أملاكٍ على صورة الأَوعال، بين أظلافِهم ورُكَبِهم مسيرةُ ثلاثٍ وستين سنةً أو خمسٍ وستين سنةً (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3429 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3429 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴾ [سورة الحاقة: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کی صورت میں ہیں، جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان تریسٹھ یا پینسٹھ سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔