أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا إبراهيم بن الحَكَم بن أبَان، حدثني أبي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس أنه سُئِلَ: هل رأى محمدٌ ربَّه؟ قال: نعم، رأى كأنَّ قَدَميهِ على خَضِرةٍ دونَه سِترٌ من لؤلؤ، فقلت: يا أبا عبَّاس، أليس يقول الله: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ﴾ [الأنعام: 103]؟ قال: يا لا أمَّ لك، ذاك نُورُه، وهو نورُه، إذا تجلَّى بنُورِه لا يُدرِكُه شيءٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3234 - بل إبراهيم متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3234 - بل إبراهيم متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں، آپ ﷺ نے دیکھا، گویا آپ ﷺ کے قدم مبارک سبز بچھونے پر تھے اور آپ کے سامنے موتیوں کا ایک پردہ تھا“۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا: ”اے ابوعباس! کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ﴾ ”نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ تمام نگاہوں کا ادراک کر لیتا ہے“ [سورة الأنعام: 103]؟“ انہوں نے فرمایا: ”تیرا بھلا ہو! وہ تو اس کا اپنا نور ہے، جب اللہ اپنے نور کے ساتھ تجلی فرماتا ہے تو کوئی بھی چیز اس کا ادراک نہیں کر سکتی“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن ابن مسعود: ﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا﴾ [الأنعام:142]، قال: الحَمُولة: ما حَمَل من الإبل، والفَرْش: الصِّغار (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3235 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3235 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا﴾ ”اور چوپایوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے (چھوٹے) جانور پیدا کیے“ [سورة الأنعام: 142] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”«حموله» سے مراد وہ بڑے اونٹ ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں، اور «فرش» سے مراد چھوٹے جانور ہیں“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔