کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: عرق النساء کے درد کا علاج
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ إسرائيل أخَذَه عِرقُ النَّسَا، فكان يُبيتُ وله زُقَاءُ (2)، قال: فجَعَلَ إِن شَفَاه اللهُ أن لا يأكلَ لحمًا فيه عُروق، قال: فحرَّمَته اليهودُ، فنزلت: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [آل عمران: 93]، إنَّ هذا كان قبلَ التَّوراة (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3152 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کو لنگڑی کا درد (عرق النساء) لاحق ہوا، جس کی وجہ سے وہ راتوں کو تکلیف سے کراہتے تھے، انہوں نے یہ منت مانی کہ اگر اللہ نے انہیں شفا دے دی تو وہ ایسا گوشت نہیں کھائیں گے جس میں رگیں ہوں، چنانچہ یہودیوں نے بھی اسے (اپنے لیے) حرام قرار دے دیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ ”تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانے حلال تھے سوائے ان کے جو اسرائیل نے خود پر حرام کر لیے تھے، آپ کہیے کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو۔“ [سورة آل عمران: 93]، یقیناً یہ واقعہ تورات کے نزول سے پہلے کا تھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3190
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العَنبَري، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3190] [ترقيم الشركة 3170] [ترقيم العلميه 3152]
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا هشام بن حسَّان، عن أنس بن سِيرِين، عن أنس ابن مالك: أنَّ رسول الله رسول الله ﷺ قال في عرق النَّسَا: "يأخذُ أَلْيَةَ كَبْشٍ عربيٍّ ليست بأعظمِها ولا أصغرِها، فيُقطِّعُها صِغارًا، ثم يُذِيبُها فيُجِيدُ إذابتَها، ويجعلُها ثلاثةَ أجزاءٍ، فيشربُ كلَّ يوم جزءًا على رِيق النَّفْس". قال أنس بن سِيرِين: فلقد أمرتُ بذلك ناسًا -ذكر عددًا كثيرًا- كلُّهم يَبرَأُ بإذن الله (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3153 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرق النساء (لنگڑی کے درد) کے بارے میں فرمایا: ”عربی مینڈھے کی چکی (دمبے کی چربی) لی جائے جو نہ بہت بڑی ہو اور نہ بہت چھوٹی، اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر اچھی طرح پگھلایا جائے، پھر اسے تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور روزانہ ایک حصہ نہار منہ پی لیا جائے۔“ انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے کئی لوگوں کو یہ مشورہ دیا -انہوں نے کثیر تعداد کا ذکر کیا- اور اللہ کے حکم سے وہ سب تندرست ہو گئے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3191
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 3191] [ترقيم الشركة 3171] [ترقيم العلميه 3153]