حدیث نمبر: 3190
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ إسرائيل أخَذَه عِرقُ النَّسَا، فكان يُبيتُ وله زُقَاءُ (2)، قال: فجَعَلَ إِن شَفَاه اللهُ أن لا يأكلَ لحمًا فيه عُروق، قال: فحرَّمَته اليهودُ، فنزلت: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [آل عمران: 93]، إنَّ هذا كان قبلَ التَّوراة (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3152 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کو لنگڑی کا درد (عرق النساء) لاحق ہوا، جس کی وجہ سے وہ راتوں کو تکلیف سے کراہتے تھے، انہوں نے یہ منت مانی کہ اگر اللہ نے انہیں شفا دے دی تو وہ ایسا گوشت نہیں کھائیں گے جس میں رگیں ہوں، چنانچہ یہودیوں نے بھی اسے (اپنے لیے) حرام قرار دے دیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ ”تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانے حلال تھے سوائے ان کے جو اسرائیل نے خود پر حرام کر لیے تھے، آپ کہیے کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو۔“ [سورة آل عمران: 93]، یقیناً یہ واقعہ تورات کے نزول سے پہلے کا تھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3190
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العَنبَري، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3190] [ترقيم الشركة 3170] [ترقيم العلميه 3152]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف قوله: "وله زقاء" في النسخ الخطية إلى: واررقا. والزُّقاء: الصِّياح.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں قول: "وله زقاء" تحریف ہو کر "واررقا" ہو گیا ہے۔ "الزُّقاء": چیخنا، چلانا (آواز نکالنا)۔
(3) إسناده صحيح. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العَنبَري، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وسفيان: هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو المثنیٰ سے مراد ’معاذ بن المثنیٰ العنبری‘ ہیں، یحییٰ بن سعید سے مراد ’القطان‘ ہیں، اور سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 10/ 8 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 126، ومن طريقه الطبري 4/ 5، والبيهقي 10/ 8 عن سفيان الثوري، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 10/ 8 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور اسے عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" 1/ 126 میں، اور انہی کے طریق سے طبری نے 4/ 5 میں، اور بیہقی نے 10/ 8 میں سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم 3/ 705 عن ابن نمير، عن الأعمش وسفيان الثوري، عن حبيب بن أبي ثابت، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے 3/ 705 میں ابن نمیر سے، انہوں نے اعمش اور سفیان ثوری سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري 4/ 5 من طريق منصور، عن حبيب بن أبي ثابت، عن ابن عبَّاس. بإسقاط سعيد بن جبير، وحبيب لم يدرك ابنَ عبَّاس.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے 4/ 5 میں منصور کے طریق سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں سعید بن جبیر کو ساقط کر دیا گیا ہے، اور حبیب نے ابن عباس کو نہیں پایا۔
عِرق النَّسا: هو العَصَب الوركيّ، وهو عصب يمتدّ من الوَرِك إلى الكعب.
نوٹ / توضیح: "عِرق النَّسا": یہ ورکی عصب (Sciatic nerve) ہے، اور یہ وہ رگ ہے جو کولہے سے ایڑی تک جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3190 سے ماخوذ ہے۔