أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن يونس بن عُبيد، عن محمد محمد بن سِيرِين، عن ابن عبَّاس: أنه قام فخَطَبَ الناسَ هاهنا -يعني بالبصرة- فقرأ عليهم سورةَ البقرة يُبيِّن ما فيها، فأَتى على هذه الآية: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ﴾ [البقرة: 180]، قال: نُسِخَت هذه؛ ثم ذكر ما بعدَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3083 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3083 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بصرہ میں لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کے سامنے سورہ بقرہ کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے احکام بیان فرمائے، جب وہ اس آیت ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ﴾ ”اگر وہ کچھ مال چھوڑ جائے تو والدین کے لیے وصیت کرنا (لازم ہے)۔“ [سورة البقرة: 180] پر پہنچے تو انہوں نے فرمایا: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے، پھر انہوں نے اس کے بعد والے احکام کا ذکر کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنَبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو خالد الأحمر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ عليًّا دخل على رجل من بني هاشم وهو مريض يعودُه، فأراد أن يُوصيَ، فنهاه وقال: إنَّ الله يقول: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾: مالًا، فدَعْ مالك لوَرَثَتِك (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3084 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3084 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بنو ہاشم کے ایک بیمار شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے منع کر دیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ یعنی اگر وہ ”مال“ (کثیر مقدار میں) چھوڑ جائے، لہٰذا تم اپنا مال اپنے وارثوں کے لیے ہی رہنے دو۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔