کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کا مہر
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا الربيع بن سليمان المُرادي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ صفوان بن سُليم حدّثه عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة، أنها قالت: قال رسول الله ﷺ: "مِن يُمنِ المرأةِ أن يُتَيسَّرَ في خِطبتِها، وأن يَتَيَسَّر صَدَاقُها، وأن يَتَيسَّر رَحِمُها" (1). قال عُرْوة: يعني يَتَيسَّر رحمُها للولادة. قال عُرْوة: وأنا أقول من عندي: من أول شُؤْمها أن يَكثُر صَداقُها.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2739 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت کی برکت و خوش بختی میں سے یہ ہے کہ اس کا پیغامِ نکاح (خِطبہ) آسان ہو، اس کا مہر سہل ہو اور اس کا رحم آسان (بچہ جننے میں سہولت والا) ہو۔“ عروہ کہتے ہیں کہ رحم کے آسان ہونے سے مراد ولادت میں آسانی ہے، اور عروہ نے یہ بھی کہا: میں اپنی طرف سے یہ کہتا ہوں کہ عورت کی پہلی نحوست یہ ہے کہ اس کا مہر بہت زیادہ گراں ہو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2774
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي.» [ترقيم الرساله 2774] [ترقيم الشركة 2755] [ترقيم العلميه 2739]
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا يزيد بن الهَادِ، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة، قال: سألتُ عائشةَ عن صَدَاقِ النبي ﷺ، قالت: ثنتا عشرة أُوقِيّةً ونَشٌّ، فقلت: ما نَشٌّ؟ قالت: نصفُ أُوقِيّة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2740 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ کے (اپنی ازواج کے لیے مقرر کردہ) مہر کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”بارہ اوقیہ اور ایک نش۔“ میں نے پوچھا: نش کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”آدھا اوقیہ۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2775
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد: وهو الدَّراوردي. محمد بن إبراهيم: هو التيمي.» [ترقيم الرساله 2775] [ترقيم الشركة 2756] [ترقيم العلميه 2740]