کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اپنی نسل کے لیے بہتر انتخاب کرو، ہم پلہ عورتوں سے نکاح کرو اور اپنی عورتوں کا نکاح ہم پلہ لوگوں میں کرو
حدثنا عليُّ بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عبد الله بن سعيد الكِنْدي، حدثنا الحارث بن عمران الجَعفَري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ "تخيَّروا لنُطَفِكُم، فَأَنكِحُوا الأَكْفاءَ، وانكِحُوا إليهم" (4). تابعه عِكْرمة بن إبراهيم عن هشام بن عُرْوة:
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے نطفوں کے لیے (بہترین ماؤں کا) انتخاب کیا کرو، مناسب جوڑ (کفو) میں نکاح کیا کرو اور ان کے ہاں نکاح کا پیغام بھیجا کرو۔“
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا زياد بن أيوب، حدثنا عِكْرمة بن إبراهيم، عن هشام بن عُرْوة، فذكره بإسناده مثله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2687 - الحارث متهم وعكرمة ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2687 - الحارث متهم وعكرمة ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ سے ان کی سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مثل مروی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه الزاهد ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا الحسين بن واقِد. وأخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقِد، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ أحسابَ أهلِ الدنيا الذي يَذهبُون إليه لَهذا المالُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2689 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2689 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ دنیا کا وہ حسب (خاندانی فخر و شرافت) جس کی طرف وہ مائل ہوتے ہیں، یہ مال و دولت ہی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔