حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحَسَن محمد بن سِنان القزّاز، حدثنا محمد بن بكر البُرْساني، حدثنا ابن جُرَيج، أخبرني عمر بن عطاء، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "لا صَرُورةَ في الإسلامِ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2673 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2673 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں «صَرُورة» (ترکِ نکاح یا تجرد کی زندگی گزارنا) جائز نہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفّان العامري، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا سفيان، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جُبير، قال: قال لي عبد الله بن عباس: تزوجتَ؟ قلتُ: لا، قال: تَزَوَّجْ؛ فإنَّ خيرَ هذه الأُمّة ﷺ أكثرُها نساءً، ومهما في صُلبِك مُستودَعٌ، فإنه سيَخرُج قبلَ يوم القيامة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عطاءُ بن السائب المغيرةَ بن النعمان في روايته:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2674 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عطاءُ بن السائب المغيرةَ بن النعمان في روايته:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2674 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، انہوں نے فرمایا: ”شادی کر لو! کیونکہ اس امت کے سب سے بہترین فرد ﷺ کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں، اور تمہاری پشت میں جتنی بھی امانتیں (اولاد) رکھی گئی ہیں وہ روزِ قیامت سے پہلے ضرور پیدا ہوں گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس روایت میں عطاء بن سائب نے مغیرہ بن نعمان کی متابعت کی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس روایت میں عطاء بن سائب نے مغیرہ بن نعمان کی متابعت کی ہے۔