أخبرني الأستاذ أبو الوليد حسان بن محمد الفقيه، حدثنا أبو بكر بن أبي داود، حدثنا أحمد بن صالح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ خرج يومَ بدرٍ في ثلاث مئة وخمسةَ عشرَ، فقال رسول الله ﷺ: "اللهم إنهم حُفاةٌ، فاحْمِلْهم، اللهم إنهم عُراةٌ، فاكْسُهم، اللهم إنهم جِياعٌ، فأشبِعْهم"، ففتح الله له يومَ بدر، فانقَلَبوا حين انقَلَبوا وما فيهم رجلٌ إلّا وقد رجعَ بجمَلٍ أو جمَلَين، فاكتَسَوا وشَبِعُوا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان على الاحتجاج بأبي عبد الرحمن المَذْحِجي (1) مولى سليمان بن عبد الملك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2596 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان على الاحتجاج بأبي عبد الرحمن المَذْحِجي (1) مولى سليمان بن عبد الملك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2596 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن تین سو پندرہ (315) صحابہ کے ساتھ نکلے، تو آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» ”اے اللہ! یہ لوگ ننگے پاؤں ہیں، انہیں سواریاں عطا فرما، اے اللہ! یہ بے لباس ہیں، انہیں کپڑے عطا فرما، اے اللہ! یہ بھوکے ہیں، انہیں پیٹ بھر کر کھانا عطا فرما“، پس اللہ نے آپ ﷺ کو بدر کے دن فتح عطا فرمائی، اور جب وہ واپس لوٹے تو ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جس کے پاس ایک یا دو اونٹ نہ ہوں، اور وہ سب لباس والے اور سیر ہو چکے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے ابوعبدالرحمن مذحجی سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے ابوعبدالرحمن مذحجی سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
أخبرني الأستاذ أبو الوليد، حدثنا أبو بكر بن أبي داود، حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني أبي، عن جدي، عن عُقيل، عن ابن شِهاب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ قد كان يُنَفِّل بعضَ مَن يبعثُ مِن السرايا لأنفُسهم خاصّةً سوى قَسْمِ عامّة الجيش، والخُمس في ذلك واجبٌ كلُّه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2597 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2597 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن فوجی دستوں (سرایا) کو روانہ فرماتے تھے، ان میں سے بعض کو عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ خاص طور پر کچھ زائد حصہ (نفل) بھی عطا فرماتے تھے، اور اس میں خمس (پانچواں حصہ) نکالنا بہرحال واجب تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔