کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سورۂ انفال کے نزول کا سبب
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيري، حدثنا أحمد بن النضر بن عبد الوهاب، حدثنا وَهْب بن بقيّة الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدر: "من فعل كذا وكذا، فله من النَّفَل كذا وكذا" قال: فقَدِمَ الفِتيانُ ولَزِمَ المَشْيَخةُ الراياتِ فلم يَبْرَحُوها، فلما فتح الله عليهم قالت المَشْيَخةُ: كنا رِدْءًا لكم، لو انهزمتُم فِئْتُم إلينا، فلا تذهَبُوا بالمَغْنم ونَبقى، فأبى الفتيانُ، وقالوا: جعلَه رسولُ الله ﷺ لنا، فأنزل الله تعالى: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ … كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ﴾ [الأنفال: 1 - 5] يقول: فكان ذلك خيرًا لهم، فكذلك أيضًا فأَطيعوني فإني أعلَمُ بعاقبةِ هذا منكم (1). حديث صحيح فقد احتج البخاريُّ بعِكْرمة، واحتج مسلم بداود بن أبي هند، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الآخر سنة ثمان وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2594 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا تھا: ”جو شخص فلاں فلاں (بہادری کا) کام کرے گا اسے غنیمت میں سے اتنا اتنا انعام (نفل) ملے گا“، راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) نوجوان تو آگے بڑھ گئے جبکہ بزرگوں نے جھنڈوں کے پاس رہنا ضروری سمجھا اور وہاں سے نہیں ہلے، پھر جب اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی تو بزرگوں نے کہا: ”ہم تمہارے لیے پشت پناہ تھے، اگر تم شکست کھاتے تو پلٹ کر ہمارے ہی پاس آتے، لہذا تم سارا مالِ غنیمت لے کر نہ جاؤ کہ ہم خالی ہاتھ رہ جائیں“، نوجوانوں نے انکار کر دیا اور کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے یہ انعام ہمارے لیے مقرر کیا ہے“، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ...﴾ ”وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں...“ یہاں تک کہ فرمایا: ”جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو آپ کے گھر سے حق کے ساتھ نکالا اور مومنوں کی ایک جماعت اسے ناپسند کر رہی تھی“ [الأنفال: 1-5]، یعنی وہ (تقسیم) ان کے لیے بہتر ثابت ہوئی، (ابن عباس فرماتے ہیں:) پس تم بھی اسی طرح (فیصلوں میں) میری اطاعت کرو کیونکہ میں ان امور کے انجام کو تم سے بہتر جانتا ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے داؤد بن ابی ہند سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2627
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2627] [ترقيم الشركة 2610] [ترقيم العلميه 2594]
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن عاصم، عن مصعب بن سعد، عن أبيه، قال: جئتُ إلى النبي ﷺ يوم بدر بسَيفٍ، فقلت: يا رسول الله، قد شُفِيَ صدري اليومَ من العدوّ، فَهَبْ لي هذا السيفَ، فقال: "إنَّ هذا السيفَ ليس لي ولا لكَ" فذهبتُ وأنا أقولُ: يُعطاهُ اليومَ مَن لم يُبْلِ بَلائي، فبَيْنا [أنا] (1) إذ جاءني الرسولُ، فقال: أجِبْ، فظننتُ أنه قد نَزَل فيَّ شيءٌ من كلامي، فجئتُ، فقال النبي ﷺ: "إنك سألتَني هذا السيفَ، وليس هو لي ولا لك، وإنَّ الله قد جعلَه لي، فهو لك" ثم قرأ: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ إلى آخر الآية (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2595 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بدر کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس ایک تلوار لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آج (دشمن کے خلاف لڑ کر) میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا ہے، لہذا یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تلوار نہ میری ہے اور نہ تمہاری (بلکہ اللہ کی ہے)“، میں یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا کہ آج یہ اسے مل جائے گی جس نے میری جیسی مشقت نہیں اٹھائی، اسی دوران ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا: (آپ ﷺ کی پکار پر) جواب دو، میں نے سوچا کہ شاید میری بات پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے، میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی حالانکہ وہ نہ میری تھی نہ تمہاری، اب اللہ نے وہ مجھے عطا فرما دی ہے، لہذا (اب) یہ تمہاری ہے“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2628
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 2628] [ترقيم الشركة 2611] [ترقيم العلميه 2595]