کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص تین چیزوں سے پاک ہو کر مرے: تکبر، خیانت (مالِ غنیمت میں) اور قرض، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة عن سالم بن أبي الجَعْد، عن مَعْدان بن أبي طلحة، عن ثَوْبان، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن فارقَ الرُّوحُ الجسدَ وهو بريءٌ من ثلاثٍ، دخلَ الجنةَ: الغُلولِ، والدَّينِ، والكَنْزِ (2) " (3) تابعه أبو عَوَانة عن قَتَادة في إقامة هذا الإسناد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2217 - تابعه أبو عوانة على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2217 - تابعه أبو عوانة على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کی روح جسم سے اس حال میں جدا ہوئی کہ وہ تین چیزوں سے بری تھا، وہ جنت میں داخل ہو گیا: مالِ غنیمت میں خیانت، قرض اور کنز (خزانہ جمع کرنے) سے۔“
أخبرَناه أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي وعفّان بن مسلم، قالا: حدثنا أبو عَوَانة، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن مَعْدان بن أبي طلحة، عن ثوبان، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن ماتَ وهو بَريءٌ من ثلاثٍ: الكَنْزِ (1)، والغُلولِ، والدَّينِ، دخَلَ الجنةَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ تین چیزوں یعنی کنز (خزانہ جمع کرنے)، خیانت اور قرض سے پاک تھا، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل ودَعَلَجُ بن أحمد السِّجِسْتاني، قالوا: أخبرنا هشام بن علي السِّيرافي، حدثنا عبد الله بن رجاء، أخبرنا سعيد بن سلمة بن أبي الحُسام، حدثني صالح بن كَيسان، عن سَعْد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، قال: "نفسُ المؤمنِ مُعَلَّقةٌ بدَينِه حتى يُقضَى عنه" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لِرواية الثَّوْري، قال فيها: عن سعد بن إبراهيم، عن عمر بن أبي سلمة، عن أبيه، عن أبي هريرة. وإبراهيمُ بن سعد على حفظِه وإتقانِه أعرَفُ بحديث أبيه من غيره:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2219 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لِرواية الثَّوْري، قال فيها: عن سعد بن إبراهيم، عن عمر بن أبي سلمة، عن أبيه، عن أبي هريرة. وإبراهيمُ بن سعد على حفظِه وإتقانِه أعرَفُ بحديث أبيه من غيره:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2219 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی جان اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کی طرف سے اسے ادا نہ کر دیا جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ثوری کی روایت کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا جس میں انہوں نے عمر بن ابی سلمہ کا ذکر کیا ہے، تاہم ابراہیم بن سعد اپنے حفظ و اتقان کی وجہ سے اپنے والد کی حدیث کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ثوری کی روایت کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا جس میں انہوں نے عمر بن ابی سلمہ کا ذکر کیا ہے، تاہم ابراہیم بن سعد اپنے حفظ و اتقان کی وجہ سے اپنے والد کی حدیث کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوْري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، عن أبيه. وأخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن بشر بن سعْد (1) المَرْثَدي؛ قالا: حدثنا محمد بن جعفر الوَرْكاني، حدثنا إبراهيم بن سعْد، عن أبيه، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "نفسُ المؤمِنِ مُعلَّقةٌ بدَينهِ حتى يُقضى عنه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی جان اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے اسے ادا کر دیا جائے۔“