کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے مال دار ہونا کوئی حرج نہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا سليمان بن بلال. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا سليمان بن بلال. وأخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني عبد الله بن سليمان بن أبي سَلَمة، أنه سمع معاذ بن عبد الله بن خُبيب الجُهَني يحدِّث عن أبيه، عن عمِّه: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عليهم وعليه أثرُ غُسل، وهو طيّبُ النفس، قال: فظننا أنه ألمَّ بأهله، فقلنا: يا رسول الله، نراكَ أصبحت طيِّبَ النفسِ، قال: "أجل، والحمدُ لله"، قال: ثم ذكر الغِنى، فقال رسول الله ﷺ: "لا بأس بالغِنى لمن اتّقى، والصحة لمن اتّقى خيرٌ من الغنى، وطِيبُ النفسِ من النعيم" (1).
هذا حديث مدنيٌّ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والصحابي الذي لم يُسمِّه سليمان بن بلال هو يَسارُ بن عبد الله الجُهَني (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2131 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے والد اور وہ اپنے چچا (سیدنا یسار بن عبداللہ الجہنی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ پر غسل کے اثرات تھے اور آپ ﷺ خوش مزاجی کی حالت میں تھے۔ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اپنی اہلیہ کے پاس رہے ہیں، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کو بہت خوش مزاج پاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور اللہ کا شکر ہے“، پھر مالداری کا تذکرہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے مالداری میں کوئی حرج نہیں، اور اللہ سے ڈرنے والے کے لیے تندرستی مالداری سے بہتر ہے، اور خوش مزاجی بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔“
یہ مدنی راویوں کی صحیح الاسناد حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور وہ صحابی جس کا نام سلیمان بن بلال نے ذکر نہیں کیا وہ یسار بن عبداللہ الجہنی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2160
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2160] [ترقيم الشركة 2141] [ترقيم العلميه 2131]
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو الوليد الطيالسي ويحيى بن بُكَير، قالا: حدثنا الليث بن سعد. وأخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي وأبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور، قالا: حدثنا عُمر (1) بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا الليث بن سعد، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن الضحَّاك بن عبد الرحمن بن خالد بن حِزام، عن جده خالد بن حِزام: أنَّ حكيم بن حِزام أعانَ (2) بفرسين يوم حُنَين (3) فأُصيبا، فأتى رسولَ الله ﷺ فقال: أصيبَ فرسايَ يا رسول الله، فأعطاهُ، ثم استزادَه فزادَه، ثم استزادَه، فقال رسول الله ﷺ: "يا حكيمُ، إنَّ هذا المالَ خَضِرةٌ حُلْوةٌ، ومن سأل الناسَ أعطَوه، والسائلُ منها كالآكِلِ ولا يَشبَعُ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2132 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خالد بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے جنگ حنین کے دن دو گھوڑوں کے ساتھ (مجاہدین کی) مدد کی، وہ دونوں گھوڑے کام آگئے، پس وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے دونوں گھوڑے کام آگئے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں (مال) عطا فرمایا، انہوں نے مزید مانگا تو آپ نے مزید دیا، انہوں نے پھر مزید مانگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے حکیم! بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے، اور جو لوگوں سے مانگتا ہے تو وہ اسے دے دیتے ہیں، لیکن اس میں سے مانگنے والا اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا تو ہے مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2161
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2161] [ترقيم الشركة 2142] [ترقيم العلميه 2132]