حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن علي بن مُسلم الأبّار، حدثنا الهيثم بن خارجة، حدثنا الوليد بن مسلم، عن عُفير بن مَعْدان، عن سُلَيم بن عامر، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ، قال: "إذا نادى المُنادِي فُتحت أبوابُ السماءِ، واستُجيب الدُّعاءُ، فمن نَزَلَ به كَرْبٌ أو شِدّةٌ فليَتحيَّن المُناديَ، فإذا كبَّرَ كبَّرَ، وإذا تَشهَّد تَشهَّدَ، وإذا قال: حيَّ على الصلاة، قال: حيَّ على الصلاة، وإذا قال: حيَّ على الفَلاح، قال: حيَّ على الفلاح، ثم يقول: اللهمَّ ربَّ هذه الدعوة الصادقةِ المستجابِ لها دعوةِ الحقِّ وكلمةِ التقوى أحْيِنا عليها، وأمِتْنا عليها، وابعَثْنا عليها، واجعَلْنا من خِيارِ أهلِها أحياءً وأمواتًا، ثم يسألُ اللهَ حاجتَه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب منادی (مؤذن) اذان پکارتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے، پس جس شخص کو کوئی پریشانی یا سختی درپیش ہو، اسے مؤذن (کی اذان) کا انتظار کرنا چاہیے، پھر جب مؤذن اللہ اکبر کہے تو وہ بھی کہے، جب وہ شہادت دے تو یہ بھی شہادت دے، جب وہ «حي على الصلاة» کہے تو یہ بھی «حي على الصلاة» کہے، جب وہ «حي على الفلاح» کہے تو یہ بھی «حي على الفلاح» کہے، پھر وہ یہ کہے: «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ الصَّادِقَةِ الْمُسْتَجَابِ لَهَا دَعْوَةِ الْحَقِّ وَكَلِمَةِ التَّقْوَى أَحْيِنَا عَلَيْهَا، وَأَمِتْنَا عَلَيْهَا، وَابْعَثْنَا عَلَيْهَا، وَاجْعَلْنَا مِنْ خِيَارِ أَهْلِهَا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا» ”اے اللہ! اس سچی پکار کے رب، جس کی دعا قبول کی جاتی ہے، جو حق کی پکار اور تقویٰ کا کلمہ ہے، ہمیں اسی پر زندہ رکھ، اسی پر موت دے، اسی پر (قیامت میں) اٹھا، اور ہمیں زندگی اور موت دونوں حالتوں میں اس کے بہترین لوگوں میں شامل فرما“، اس کے بعد وہ اللہ سے اپنی حاجت کا سوال کرے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن المُثنَّى، حدثنا عَفَّان، حدثنا شُعبة، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، قال: رأيتُ النبيَّ ﷺ يَعقِدُ التَّسبِيحَ (2). رواه الأعمش عن عطاء بن السائب:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو انگلیوں پر تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا۔
أخبرَناهُ أبو الطَّيب محمد بن أحمد بن الحسن الحِيْري، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفَرّاء، حدثنا علي بن عَثّام بن علي العامِري، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، قال: رأيتُ النبيَّ ﷺ يَعقِدُ التَّسبيحَ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی انگلیوں کے پوروں پر تسبیح کے کلمات شمار فرما رہے تھے۔