کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو یا أرحم الراحمين کہتا ہے اس پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، حدثني محمد بن سَهْل بن عَسكَر، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني يحيى بن أبي أُسَيد، عن الفضل بن عيسى، عن عمِّه، عن أنس بن مالك، قال: مرَّ رسولُ الله ﷺ برجل وهو يقولُ: يا أرحمَ الراحمين، فقال له رسول الله ﷺ: "سَلْ، فقد نَظَر اللهُ إليك" (2). الفضل بن عيسى: هو الرَّقَاشي، وأخشى أن يكون عمُّه يزيدَ بنَ أبان (3)، إلَّا أني قد وجدتُ له شاهدًا من حديث أبي أُمامة الباهِلي.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو کہہ رہا تھا: اے ارحم الراحمین (سب سے زیادہ رحم کرنے والے)! تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”(جو مانگنا ہے) مانگو، کیونکہ اللہ نے تمہاری طرف نظرِ کرم فرمائی ہے۔“
فضل بن عیسیٰ الرقاشی ہیں، اور مجھے ڈر ہے کہ ان کے چچا یزید بن ابان ہوں، لیکن مجھے اس حدیث کا ایک شاہد سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مل گیا ہے۔
فضل بن عیسیٰ الرقاشی ہیں، اور مجھے ڈر ہے کہ ان کے چچا یزید بن ابان ہوں، لیکن مجھے اس حدیث کا ایک شاہد سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مل گیا ہے۔
حدَّثَناهُ أبو بكر محمد بن عبد الله العُمَاني، حدثنا موسى بن زكريا التُّسْتَري، حدثنا كامل بن طلحة، حدثنا فَضّال بن جُبير، عن أبي أُمامة، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "إنَّ لله مَلَكًا موكَّلًا بمن يقول: يا أرحمَ الراحمين، فمن قالها ثلاثًا قال له الملَك: إِنَّ أرحمَ الراحمينَ قد أقبلَ عليك فاسألْ" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا ایک فرشتہ اس شخص پر مقرر ہے جو «يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» کہتا ہے، پس جو شخص اسے تین بار کہتا ہے تو وہ فرشتہ اس سے کہتا ہے: یقیناً ارحم الراحمین تمہاری طرف متوجہ ہو گیا ہے، اب جو چاہو مانگو۔“