حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو من أصل كتابه، حدثنا عبد الصمد بن الفضل وإسحاق بن الهَيّاج، قالا: حدثنا محمد بن نُعَيم السَّعْدي، حدثنا مالك بن أنس، عن سُمَيٍّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرةَ قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ بالعَرْج يَصُبُّ على رأسه الماءَ من الحَرِّ وهو صائم (2).
هذا حديث له أصل في "الموطأ"، فإن كان محمد بن نُعَيم السَّعْدي حَفِظَه هكذا فإنه صحيح على شرط الشيخين.
هذا حديث له أصل في "الموطأ"، فإن كان محمد بن نُعَيم السَّعْدي حَفِظَه هكذا فإنه صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مقامِ عرج پر دیکھا کہ آپ ﷺ روزے کی حالت میں تپش کی وجہ سے اپنے سر مبارک پر پانی ڈال رہے تھے۔
اس حدیث کی اصل موطا امام مالک میں موجود ہے، اگر محمد بن نعیم سعدی نے اسے اسی طرح محفوظ رکھا ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
اس حدیث کی اصل موطا امام مالک میں موجود ہے، اگر محمد بن نعیم سعدی نے اسے اسی طرح محفوظ رکھا ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
فقد أخبرَناه أبو بكر بن أبي نَصْر المَرْوزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا القَعْنبي، فيما قرأَ على مالك، عن سُمَيٍّ مولى أبي بكر، عن أبي بكر بن عبد الرحمن، عن بعض أصحاب النبي ﷺ قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ أمَرَ الناس في سَفَرِه بالفطر عامَ الفتح، وقال: "تقوَّوا لِعدوِّكم"، وصام رسول الله ﷺ. قال أبو بكر بن عبد الرحمن: وقال الذي حدَّثني: لقد رأيتُ رسول الله ﷺ بالعَرْج يَصبُّ على رأسه الماءَ وهو صائمٌ من العَطَش، أو قال: من الحَرِّ (1).
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے سال اپنے سفر کے دوران لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے قوت حاصل کرو“، جبکہ رسول اللہ ﷺ اس وقت روزے سے تھے۔ ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے جس شخص نے یہ حدیث سنائی اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مقامِ عرج پر دیکھا کہ آپ ﷺ روزے کی حالت میں پیاس یا تپش کی وجہ سے اپنے سر مبارک پر پانی ڈال رہے تھے۔