أخبرنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الدَّبّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد حدثنا الحكم بن موسى، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا إسحاق بن عبد الله (2) قال: سمعت عبد الله بن أبي مُلَيكة يقول: سمعتُ عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ للصائم عند فِطْرِه دعوةً ما تُرَدّ". قال ابنُ أبي مُلَيكة: وسمعتُ عبد الله بن عمرٍو يقول عند فِطْرِه: اللهمَّ إنِّي أسألك برحمتِك التي وَسِعَتْ كلَّ شيءٍ أن تَغفِرَ لي ذنوبي (3). إسحاق هذا إن كان ابنَ عبد الله مولى زائدةَ، فقد خرَّج عنه مسلم، وإن كان ابنَ أبي فَرْوةَ، فإنهما لم يخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی۔“ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو کو افطار کے وقت یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي» ”اے اللہ! میں تیری اس رحمت کے واسطے سے جو ہر چیز پر محیط ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے گناہ معاف فرما دے۔“
اس میں اسحاق نامی راوی اگر زائدہ کے مولیٰ ہیں تو امام مسلم نے ان سے روایت لی ہے، اور اگر وہ ابن ابی فروہ ہیں تو شیخین نے ان سے روایت نہیں لی۔
اس میں اسحاق نامی راوی اگر زائدہ کے مولیٰ ہیں تو امام مسلم نے ان سے روایت لی ہے، اور اگر وہ ابن ابی فروہ ہیں تو شیخین نے ان سے روایت نہیں لی۔
أخبرنا أبو حامد أحمد بن محمد الخطيب بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثنا مروان بن سالم المُقفَّع قال: رأيت ابنَ عمر يَقبِضُ على لِحيتِه فيَقطَعُ ما زادَ على الكف، وقال: كان رسولُ الله ﷺ إذا أفطَرَ قال: "ذَهَبَ الظَّمأُ، وابتلَّتِ العُرُوق، وثَبَتَ الأجرُ إن شاء الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
حافظ طلحہ بابر
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو حصہ مٹھی سے زائد ہوتا اسے کاٹ دیتے، اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور ان شاء اللہ اجر ثابت ہو گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ حسین بن واقد اور مروان بن مقفع دونوں سے احتجاج کیا گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ حسین بن واقد اور مروان بن مقفع دونوں سے احتجاج کیا گیا ہے۔