کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قریبی رشتہ داروں کو دینا اجر کے لحاظ سے زیادہ عظیم ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا أبو معاوية، عن محمد بن إسحاق. وأخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هنَّاد بن السَّري، حدثنا عَبْدة، عن محمد بن إسحاق، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشَجِّ، عن سليمان بن يسار، عن ميمونةَ زوج النبي ﷺ قالت: كانت لي جاريةٌ فأعتقتُها، فدخل عليَّ رسول الله ﷺ، فأخبرته، فقال: "آجَرَكِ الله، أَمَا إنَّكِ لو كنتِ أعطيتِها أخوالَكِ كان أعظمَ لأجرِكِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری ایک لونڈی تھی جسے میں نے آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو اس کی خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں اس کا اجر دے، لیکن اگر تم وہ لونڈی اپنے ننھیال (ماموں وغیرہ) کو دے دیتیں تو یہ تمہارے اجر کے لحاظ سے زیادہ بڑی بات ہوتی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا قَبِيصة، حدثنا سفيان. وأخبرنا محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن محمد بن عَجْلان، عن المَقبُري، عن أبي هريرة قال: أَمَرَ النبيُّ ﷺ بالصدقة، فقال رجل: يا رسول الله، عندي دينار، قال: "تصدَّقْ به على نفسك" قال: عندي آخر، قال: "تصدَّقْ به على وَلَدِك" قال: عندي آخر، قال: "تصدَّقْ به على زَوجِك" - أو قال: "على زوجتك" - قال: عندي آخر، قال: "تصدَّقْ به على خادِمِك" قال: عندي آخر، قال: "أنت أبصَرُ" (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا، تو ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنی ذات پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے بچے پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنی بیوی پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم پر خرچ کرو“، اس نے عرض کیا: ”میرے پاس ایک اور ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم خود زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ اسے کہاں خرچ کرنا ہے)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔