حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف الصَّنعاني، حدثنا عبد الله بن بَحِير قال: سمعتُ هانئًا مولى عثمان بن عفان يقول: كان عثمان بن عفان إذا وَقَفَ على قبرٍ بَكَى حتى يَبُلَّ لحيتَه، فيقال له: قد تَذكُرُ الجنةَ والنارَ فلا تبكي، وتبكي من هذا؟ فيقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ القبرَ أولُ منازل الآخرة، فإن نَجَا منه فما بعدَه أيسَرُ منه، وإن لم يَنْجُ منه فما بعدَه أشدُّ منه"، وقال رسول الله ﷺ: "ما رأيتُ منظرًا إلّا والقبرُ أفظَعُ منه" (1).
حافظ طلحہ بابر
ہانی (غلامِ عثمان) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ ان کی داڑھی مبارک (آنسوؤں سے) تر ہو جاتی، ان سے کہا جاتا کہ آپ جنت اور دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں تو اتنا نہیں روتے لیکن قبر کو دیکھ کر اتنا روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کے مراحل اس سے زیادہ آسان ہوں گے، اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو اس کے بعد کے مراحل اس سے زیادہ سخت ہوں گے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”میں نے کوئی بھی منظر نہیں دیکھا مگر قبر کا منظر اس سے زیادہ ہولناک پایا۔“
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا العباس بن الفَضْل الأسفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أبي، حدثنا المفضَّل بن محمد الضَّبِّي، عن عمر بن يَعلَى بن مُرَّة، عن أبيه، قال: سافرتُ مع النبي ﷺ غيرَ مرَّةٍ، فما رأيتُه مَرَّ بجيفةِ إنسانٍ إِلَّا أَمَرَ بدَفنِه، لا يَسألُ أمسلمٌ هو أم كافرٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ جب بھی کسی انسان کی لاش کے پاس سے گزرتے تو اسے دفن کرنے کا حکم دیتے، آپ ﷺ یہ دریافت نہیں فرماتے تھے کہ یہ مسلمان ہے یا کافر۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔