أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا فائد أبو الوَرْقاء العطّار، عن عبد الله بن أبي أَوفى، قال: خرج علينا رسولُ الله ﷺ يومًا فقعد فقال: "مَن كانت له حاجةٌ إلى الله أو إلى أحدٍ من بني آدم، فليتوضأ وليُحسِنْ وُضوءَه، ثم ليصلِّ ركعتين، ثم يُثْني على الله، ويصلي على النبي ﷺ، وليقل: لا إله إلّا الله الحليمُ الكريم، سبحان الله ربِّ العرش العظيم، الحمد لله ربِّ العالمين، أسألك عزائمَ مغفرتِك، والعِصمةَ من كل ذَنْب، والسَّلامةَ من كل إثم" (2). فائد بن عبد الرحمن أبو الوَرْقاء كوفيٌّ عِدَاده في التابعين، وقد رأيتُ جماعةً من أعقابه، وهو مستقيم الحديث، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا عنه، وإنما جعلتُ حديثه هذا شاهدًا لما تقدم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ کر فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ سے یا بنی آدم میں سے کسی سے کوئی حاجت ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے اور کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ» ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں جو نہایت بردبار اور کریم ہے، پاک ہے وہ اللہ جو عرشِ عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، میں تجھ سے تیری مغفرت کے اسباب، ہر گناہ سے بچاؤ اور ہر برائی سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں۔““
فائدہ بن عبدالرحمن ابوالورقاء کوفی ہیں جن کا شمار تابعین میں ہوتا ہے، وہ مستقیم الحدیث ہیں مگر شیخین نے ان سے روایت نہیں کی، میں نے ان کی اس حدیث کو سابقہ روایات کے لیے بطورِ شاہد ذکر کیا ہے۔
فائدہ بن عبدالرحمن ابوالورقاء کوفی ہیں جن کا شمار تابعین میں ہوتا ہے، وہ مستقیم الحدیث ہیں مگر شیخین نے ان سے روایت نہیں کی، میں نے ان کی اس حدیث کو سابقہ روایات کے لیے بطورِ شاہد ذکر کیا ہے۔
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا أبو الطَّاهر أحمد بن عمرو، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني حُيَيُّ بن عبد الله، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ في الجنة غُرَفًا يُرى ظاهرُها من باطنها، وباطنُها من ظاهرِها"، قال أبو مالك الأشعري: لمن هي يا رسول الله؟ قال: "لمن أطابَ الكلام، وأطعَمَ الطعام، وبات قائمًا والناسُ نِيام" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے دیکھا جا سکتا ہے“، سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کے لیے جو نرم گفتگو کرتے ہیں، کھانا کھلاتے ہیں اور راتوں کو اس وقت (تہجد کے لیے) کھڑے ہوتے ہیں جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زهير، عن العلاء بن المسيّب، عن عمرو بن مُرَّة، عن طلحة بن يزيد الأنصاري، عن حُذيفةَ بن اليمان قال: صليتُ مع رسول الله ﷺ ليلةً من رمضان في حُجْرة من جَريدِ النخل، قال: فقام فكبَّر فقال: "الله أكبرُ ذو الجَبَروت والمَلَكوت، وذو الكِبرياء والعَظَمة"، ثم افتتح البقرةَ فقرأ، فقلت: يَبلغُ رأسَ المئة، ثم قلت: يَبلغُ رأسَ المئتين، قال: ثم خَتَمها، ثم افتتح آلَ عمران، فقرأها، ثم افتتح النساء فقرأها، لا يمرُّ بآية التخويف إلّا وَقَفَ فتعوَّذ، ثم ركع مثلَ ما قام، يقول: "سبحانَ ربيَ العظيم"، يُردِّدُهن، ثم رفع رأسَه فقال: "سَمِع الله لمن حَمِده، اللهم ربَّنا لك الحمد"، مثلَ ما ركع، ثم سَجَدَ مثلَ ما قام يقول: "سبحان ربيَ الأعلى"، ويقول بين السجدتين: "ربِّ اغفِرْ لي" فما صلَّى إلّا أربع ركَعَات من صلاة العَتَمة من أولِ الليل إلى آخرِه حتى جاء بلالٌ فآذَنَه بصلاة الغَدَاة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [من كتاب السهو] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في رجب سنةَ خمسٍ وتسعين وثلاث مئة:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [من كتاب السهو] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في رجب سنةَ خمسٍ وتسعين وثلاث مئة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان کی ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے ایک حجرے میں نماز پڑھی، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی: «اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَذُو الْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”اللہ بہت بڑا ہے، جو صاحبِ جبروت، صاحبِ ملکوت اور بڑائی و عظمت والا ہے“، پھر آپ ﷺ نے سورہ بقرہ شروع کی، میں نے سوچا کہ آپ ﷺ سو آیات پر رکوع کریں گے، پھر میں نے سوچا کہ دو سو پر کریں گے، مگر آپ ﷺ نے پوری سورت ختم کی، پھر آل عمران شروع کی اور اسے پڑھا، پھر سورہ نساء شروع کی اور اسے پڑھا، آپ ﷺ ڈرانے والی کسی بھی آیت سے گزرتے تو وہاں رک کر اللہ کی پناہ مانگتے، پھر آپ ﷺ نے قیام جتنا طویل ہی رکوع کیا اور اس میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» دہراتے رہے، پھر سر اٹھا کر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہا اور رکوع جتنا ہی طویل قیام کیا، پھر سجدہ کیا اور قیام جتنا ہی طویل سجدہ کیا جس میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہتے رہے، اور دو سجدوں کے درمیان «رَبِّ اغْفِرْ لِي» کہتے رہے، آپ ﷺ نے رات کے شروع سے آخر تک عشاء کی چار رکعتیں ہی پڑھی تھیں کہ اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ کو صبح کی نماز کی اطلاع دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب السہو کا آغاز]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب السہو کا آغاز]